اپنا ضلع منتخب کریں۔

    ہوشیار! مفت انٹرنیٹ کی آڑ میں وصولی کر رہا ہے Facebook، کہیں آپ بھی تو نہیں کر رہے استعمال

    Facebook Charged For Free Internet : اس بات کا انکشاف وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی انڈونیشیا، فلپائن اور پاکستان (Pakistan) جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ ساجھیداری پر (Telecom Companies) فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کا ایکسز مفت میں فراہم کرتی ہے۔

    Facebook Charged For Free Internet : اس بات کا انکشاف وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی انڈونیشیا، فلپائن اور پاکستان (Pakistan) جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ ساجھیداری پر (Telecom Companies) فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کا ایکسز مفت میں فراہم کرتی ہے۔

    Facebook Charged For Free Internet : اس بات کا انکشاف وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی انڈونیشیا، فلپائن اور پاکستان (Pakistan) جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ ساجھیداری پر (Telecom Companies) فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کا ایکسز مفت میں فراہم کرتی ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: فیس بک (Facebook) اب مفت انٹرنیٹ (Free Internet) دینے کی آڑ میں اپنے صارفین سے وصولی پر اتر آیا ہے۔ اس بات کا انکشاف وال اسٹریٹ جرنل (The Wall Street Journal) کی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سوشل میڈیا کمپنی انڈونیشیا، فلپائن اور پاکستان (Pakistan) جیسے ترقی پذیر ممالک میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ساتھ ساجھیداری پر (Telecom Companies) فیس بک اور دیگر ویب سائٹس کا ایکسز مفت میں فراہم کرتی ہے۔ لیکن، اب اس نے صارفین کے سیلولر نیٹ ورک کنکشن فراہم کرنے والی کمپنیوں سے چارج وصولنا شروع کر دیا ہے۔

      دراصل میٹا کنیکٹیوٹی کے ذریعے فیس بک اپنے صارفین کو کمیونیکیشن ٹولز، صحت کی معلومات، تعلیمی وسائل اور دیگر کم بینڈوتھ خدمات تک مفت خڈمات فراہم کرتا ہے۔ فیس بک یہ سروس سال 2013 سے فراہم کر رہا ہے اور اکتوبر 2021 تک 30 کروڑ سے زیادہ لوگوں کو خدمات فراہم کر چکا ہے۔ حالانکہ فیس بک نے اس پر وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر حصوں میں یہ مسئلہ حل ہو چکا ہے۔

      دراصل، مسئلہ فیس بک کے سافٹ ویئر اور یوزر انٹرفیس والی ویڈیو سے شروع ہوا۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ فیس بک کے سافٹ ویئر میں گڑبڑی پائی گئی ہے ۔ اس لیے ویڈیو کو فری بیسکس کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ یوزرس  کو معلومات دیتے ہوئے نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ اب ان ویڈیوز کو دیکھنے کے لیے صارفین کو چارج ادا کرنا ہوگا۔ فیس بک نے پایا کہ تقریباً 83 فیصد ناپسندیدہ چارجز ان ویڈیوز سے آتے ہیں۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: