ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جانئے آج کادن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے کیوں ہے خاص؟

سر سید احمد خان نے ہندستانیوں کی سر بلندی کے لئے جدید علوم کے محور اس ادارے کے قیام کا خواب اس عہد میں دیکھا تھا جب 1857 کی تحریک آزادی میں انگریزی حکومت نے اپنے مظالم کے پہاڑ توڑے تھے اور ہندستانیوں کی سربلندی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ ایسے میں ایک تنہا شخص نے نہ صرف ایک خواب دیکھا بلکہ اس میں حقیقتوں کا رنگ بھرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔

  • Share this:
جانئے آج کادن علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لئے کیوں ہے خاص؟
سر سید نے اپنے مشن کا آغٓاز مرادآباد سے ایک مدرسہ کے قیام سے کیا۔

ایشیائی ممالک میں ریفارمیشن اور قومی اصلاح میں جو مقام سرسید احمد خان کو حاصل ہے وہ دوسرے کسی شخص کو نہیں۔ سر سید احمد خان ایک عظیم مفکر، مدبر اور مصلح قوم ہی نہیں بلکہ ان کی شخصیت کے مقناطیسی پہلو ہیں۔ انہوں نے جس میدان میں بھی قدم بڑھایا اپنی تحریر،تقریر اور طرزعمل سے اس میں انمٹ نقوش مرتب کئے ہیں۔ یوں تو ان کے کارناموں کی ایک لمبی فہرست ہے۔ مگر یہاں مقصد ان کی تعلیمی تحریک، تاریخ نویسی، اردو لٹریچر اورقومی یکجہتی کے حوالے سے انکی خدمات پر روشنی ڈالنا ہے۔ ہندستانیوں کی سر بلندی کے لئے ملک میں جدید تعلیم کی تحریک  اور پھر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام نے انکی شخصیت کو زندہ جاوید بنا دیا ہے۔ آج کا دن تاریخ کے اوراق میں اس لئے بھی خاص اور اہم ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کو آج صدی مکمل ہوگئی ہے۔


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام  اور صدی کا سفر دیکھنے میں یوں تو بہت آسان لگتا ہے مگر جب ہم تاریخ کے اوراق پر نظر ڈالتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ اس ادارے کے قیام کے لئے سر سید احمد خان اور ان کے رفقا کو کن کن مسائل سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ سر سید احمد خان نے  ہندستانیوں کی سر بلندی کے لئے جدید علوم کے محور اس ادارے کے قیام کا خواب اس عہد میں دیکھا تھا جب 1857 کی تحریک آزادی میں انگریزی  حکومت نے اپنے مظالم کے پہاڑ توڑے تھے اور ہندستانیوں کی سربلندی کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا تھا۔ ایسے میں ایک تنہا شخص نے نہ صرف ایک خواب دیکھا بلکہ اس میں حقیقتوں کا رنگ بھرنے کے لئے اپنی پوری زندگی وقف کردی۔


علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کے آج سو سال پورے


سر سید نے اپنے مشن کا آغٓاز مرادآباد سے ایک مدرسہ کے قیام سے کیا۔ مرادآباد کے بعد سر سید کا تبادلہ جب غازی پور میں ہوا تو انہوں نے سائنٹفک سوسائٹی قائم کی تاکہ یورپ میں سائنس کے میدان میں جو کچھ لکھا جا رہا ہے اسے ہندستانی زبان میں منتقل کرکے ہندستانیوں میں سائنسی مزاج پیدا کیا جائے۔ سر سید کے مشن کی آبیاری میں رسالہ تہذیب نے ایک چپو کا کاکام کیا۔ سوئے ہوئے ذہنوں کی بیداری کے لئے جب سر سید نے اصلاحی مضامین لکھے تو ایک ہلچل مچ گئی۔ سر سید نے اپنے مشن کا باقاعدہ آغاز کرنے کے لئے 24 مئی 1875 کو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم کے نام سے ایک مدرسہ قائم کیا۔ یہ مدرسہ دو سال میں ترقی کر کے 8 جنوری 1877 کو محمڈن اینگلو اورینٹل کالج میں تبدیل ہوا۔ 27  اگست 1920 کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا بل پیش کیا گیا۔ 9 ستمبر 1920 کو بل پاس کیا گیا۔ 14 ستمبر 1920 کو گورنر جنرل نے بل کو اپنی منظوری دی اور یکم دسمبر کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا قیام عمل میں آیا اور 17 دسمبر 1920کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے قیام کی تقریب عمل میں آئی تھی۔

سرسید نے تعلیم کے جس درخت کو علی گڑھ میں لگایاتھا آج وہ درخت نہ صرف تناور ہو چکا ہے بلکہ اس کے فرزندان پوری دنیا کو علی گڑھ کی روشنی سے منور کر رہے ہیں۔ علی گڑھ یونیورسٹی کے قیام کی صدی پر نیوزایٹین اردو بھی مبارکباد پیش کرتا ہے اور یہ امید کرتا ہے کہ جس طرح سے ایک تنہا شخص نے علم کی روشنی سے لاکھوں زندگیوں کے معنی بدل دئے اسی طرح سے چمنستان سر سید کے فارغین ملک و بیرون ملک میں علم کی روشنی کو پھیلاتے رہیں گے اور یہی سرسید احمدخا ن کو سب سے بڑا خراج عقیدت ہوگا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Dec 01, 2020 10:37 AM IST