உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    AMU صد سالہ تقریب: وزیر اعظم بولے۔ کورونا بحران کے دوران سماج کے لئے اے ایم یو کی مدد بے مثال

    وزیر اعظم مودی کی فائل فوٹو

    وزیر اعظم مودی کی فائل فوٹو

    وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید کا پیغام کہتا ہے کہ ہر کسی کی خدمت کریں چاہے اس کا مذہب یا طبقہ کچھ بھی ہو۔ ایسے میں ملک کی خوشحالی کے لئے اس کی ہر سطح پر ترقی ہونا ضروری ہے، آج ہر شہری کو بلا تفریق ترقی کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شہری آئین سے حاصل شدہ حقوق کے حوالہ سے سب بے فکر رہیں، سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ہی ہمارا سب سے بڑا نعرہ ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی (PM Modi) کا علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی (AMU) کی صد سالہ تقریب (Centenary Celebrations) سے خطاب شروع ہو گیا ہے۔ یہ پہلی بار ہے جب پانچ دہائی سے بھی زیادہ عرصے بعد کوئی وزیر اعظم اے ایم یو کے پروگرام میں شرکت کر رہا ہے۔ اس سے پہلے 1964 میں اس وقت کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے اے ایم یو کی تقسیم اسناد کی تقریب (Convocation) سے خطاب کیا تھا۔ وزیر اعظم مودی ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعہ اے ایم یو کی صد سالہ تقریب سے خطاب کر رہے ہیں۔

      وزیر اعظم نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورونا بحران کے دوران اے ایم یو نے جس طرح سے سماج کی مدد کی وہ بےمثال ہے۔ لوگوں کا مفت ٹیسٹ کرانا، آئیسولیشن وارڈ بنانا، پلازما بینک بنایا اور پی ایم کیئر فنڈ میں بڑی رقم کا تعاون دینا سماج کے تئیں آپ کے فرائض پورا کرنے کی سنجیدگی کو دکھاتا ہے۔


      سب کا ساتھ سب کا وکاس ہمارا نعرہ: نریندر مودی

      وزیر اعظم مودی نے اپنے خطاب میں کہا کہ سر سید کا پیغام کہتا ہے کہ ہر کسی کی خدمت کریں چاہے اس کا مذہب یا طبقہ کچھ بھی ہو۔ ایسے میں ملک کی خوشحالی کے لئے اس کی ہر سطح پر ترقی ہونا ضروری ہے، آج ہر شہری کو بلا تفریق ترقی کے مواقع فراہم ہو رہے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ شہری آئین سے حاصل شدہ حقوق کے حوالہ سے سب بے فکر رہیں، سب کا ساتھ، سب کا وکاس اور سب کا وشواس ہی ہمارا سب سے بڑا نعرہ ہے۔

      وزیر اعظم  نے کہا کہ کچھ وقت پہلے اے ایم یو کے ایک سابق طالب علم نے بتایا کہ مسلم بیٹیوں کا اسکول ڈراپ آؤٹ ریٹ  70 فیصد سے زیادہ تھا، کئی عشروں تک یہی صورت حال برقرار رہی۔ لیکن سوچھ بھارت مشن کے بعد اب یہ گھٹ کر 30 فیصد تک ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم نے کہا، ’’اے ایم یو میں بھی اب 35 فیصد تک مسلم بیٹیاں پڑھ رہی ہیں۔ اس کی بانی چانسلر کی ذمہ داری بیگم سلطان نے سنبھالی تھی۔ اگر کوئی عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو پوری نسل تعلیم یافتہ ہو جاتی ہے۔‘‘
      Published by:Nadeem Ahmad
      First published: