உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہندوستان آنے پر جذباتی ہوئے افغان ممبر پارلیمنٹ، کہا : 20 سال میں جو ہوا تھا، اب سب ختم ہوگیا

    ہندوستان آنے پر جذباتی ہوئے افغان ممبر پارلیمنٹ، کہا : 20 سال میں جو ہوا تھا، اب سب ختم ہوگیا ۔

    ہندوستان آنے پر جذباتی ہوئے افغان ممبر پارلیمنٹ، کہا : 20 سال میں جو ہوا تھا، اب سب ختم ہوگیا ۔

    افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ملک کے تازہ واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر جذباتی ہوتے ہوئے خالصہ نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں کی سبھی حصولیابیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رونا آرہا ہے ، سب کچھ ختم ہوگیا ہے ، ملک چھوڑنا بہت مشکل اور دردناک فیصلہ ہے ، ہم نے ایسی صورتحال نہیں دیکھی تھی ، سب کچھ چھین لیا گیا ، سب ختم ہوگیا ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : افغانستان میں طالبان کے قبضہ کے بعد ہندوستان کے ذریعہ لوگوں کو واپس لانے کی مہم کے تحت اتوار کو ہنڈن ایئربیس پر 167 لوگوں کے ساتھ آئے افغان ممبر پارلیمنٹ نریندر سنگھ خالصہ نے کہا کہ گزشتہ 20 سال کی ساری حصولیابیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ اب کچھ نہیں بچا ہے اور سب صفر ہوچکا ہے ۔

      خالصہ اور سینیٹر انارکلی ہنریارکے ساتھ ساتھ ان کا کنبہ اتوار کی صبح ہندوستانی فضائیہ کے سی 17 طیارہ سے کابل سے یہاں پہنچے ۔ سکھ ممبر پارلیمنٹ نے کابل اور افغانستان کے زیادہ تر حصوں پر طالبان کے قبضہ کے بعد انہیں ، ان کے کنبہ اور ان کی کمیونٹی کے کئی دیگر اراکین کو بچانے کیلئے ہندوستانی حکومت کا شکریہ ادا کیا ۔

      ممبر پارلیمنٹ نے دہلی کے پاس ایئربیس پر نامہ نگاروں سے کہا کہ ہندوستان ہمارا دوسرا گھر ہے ۔ بھلے ہی ہم افغان ہیں اور اس ملک میں رہتے ہیں ، مگر لوگ اکثر ہمیں ہندوستانی کہتے ہیں ۔ افغانستان کی موجودہ صورتحال اور ملک کے تازہ واقعات کے بارے میں پوچھے جانے پر جذباتی ہوتے ہوئے خالصہ نے کہا کہ گزشتہ 20 سالوں کی سبھی حصولیابیاں ختم ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مجھے رونا آرہا ہے ، سب کچھ ختم ہوگیا ہے ، ملک چھوڑنا بہت مشکل اور دردناک فیصلہ ہے ، ہم نے ایسی صورتحال نہیں دیکھی تھی ، سب کچھ چھین لیا گیا ، سب ختم ہوگیا ۔

      انہوں نے کہا کہ طالبان ہمیں افغانستان میں رہنے کیلئے کہہ رہے تھے ، انہوں نے ہمارے تحفظ کی ذمہ داری لینے کی بات کہی ۔ چونکہ طالبان کے اتنے سارے گروپ ہیں ، ہم نہیں جانتے کہ کس سے بات کریں اور کس پر بھروسہ کریں ، اس لئے ہم نے وہاں سے نکلنے کا فیصلہ کیا کیونکہ حالات سنگین ہیں ۔

      خالصہ نے کہا کہ تقریبا سبھی ہندوستانی اور افغان سکھ کابل اور دیگر مقامات پر گرودواروں میں پناہ لے رہے ہیں ۔ تقریبا 200 دیگر ہندوستانی اور ہند نزاد لوگ بچائے جانے کا انتظار کررہے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: