ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تین طلاق کا معاملہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قانون میں تبدیلی کی مخالفت

نئی دہلی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے میڈیا پر تین طلاق کے معاملہ کو خواہ مخواہ طول دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گی۔

  • UNI
  • Last Updated: Jun 04, 2016 03:27 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
تین طلاق کا معاملہ: آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قانون میں تبدیلی کی مخالفت
نئی دہلی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے میڈیا پر تین طلاق کے معاملہ کو خواہ مخواہ طول دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گی۔

نئی دہلی۔  آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے میڈیا پر تین طلاق کے معاملہ کو خواہ مخواہ طول دینے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم خواتین مسلم پرسنل لا میں کسی بھی تبدیلی کو قبول نہیں کریں گی۔ بورڈ نے کہا کہ اسلام میں طلاق بہت ناخوشگوار عمل ہے اور اس کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے ۔ لیکن اگر دونوں فریق شوہر اور بیوی کے طور پر ساتھ رہنے کے لئے مصالحت نہیں کرپاتے ہیں تو اس سے بحفاظت باہر نکلنے کا ایک راستہ موجود ہے۔ بورڈ نے کہا کہ قرآن اور حدیث میں طلاق دینے کا طریقہ واضح طور پر اور تفصیل سے بتایا گیا ہے ۔ ایک دفعہ میں تین طلاق دینا بدعت ہے اور اس سے گریز کرنے کو کہا گیا ہے۔ بورڈ نے کہا کہ میڈیا اس معاملہ پر خواہ مخواہ ہنگامہ کررہا ہے اور بڑھا چڑھا کر پیش کررہا ہے۔


بورڈ نے اس سروے رپورٹ کی مذمت کی جس میں دکھایا گیا ہے کہ 92 فی صد مسلم خواتین تین طلاق پر پابندی کے حق میں ہیں اور مسلم پرسنل لا میں تبدیلی کی خواہاں ہیں ۔ بورڈ نے اس عرضی کی بھی مذمت کی ہے جس پر مرد و خواتین نے دستخط کرکے قومی کمیشن برائے خواتین کو سونپ کر ’’طلاق کے مسلم طریقہ کو منسوخ کرنے کی مانگ کی ہے‘‘۔


تیسری طلاق کی اجازت کے حوالے سے بورڈ نے کہا کہ جو لوگ اس میں تبدیلی چاہتے ہیں اور شرعی اصول پر کار بند نہیں رہنا چاہتےوہ ملک کے سول کوڈ پر چلنے کے لئے آزاد ہیں  وہ خصوصی شادی ایکٹ کے تحت شادی کرسکتے ہیں ۔ بورڈ نے جنسی تعصب کے الزامات کی بھی تردید کی اور کہا کہ یہ الزامات اسلام اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی غرض سے لگائے جارہے ہیں ۔


First published: Jun 04, 2016 03:27 PM IST