உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اب دارالقضا میں خاتون قاضی کی مناسب نمائندگی کا مطالبہ زوروں پر

    لکھنؤ۔ ایک  نشست میں تین طلاق  کو ختم  کرنےاور بیواوں و طلاق شدہ خواتین کے لئے بیت المال کے قیام کے مطا لبے کے بعد اب دارالقضا میں خاتون قاضی کی  مناسب نمائندگی کا  مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

    لکھنؤ۔ ایک نشست میں تین طلاق کو ختم کرنےاور بیواوں و طلاق شدہ خواتین کے لئے بیت المال کے قیام کے مطا لبے کے بعد اب دارالقضا میں خاتون قاضی کی مناسب نمائندگی کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

    لکھنؤ۔ ایک نشست میں تین طلاق کو ختم کرنےاور بیواوں و طلاق شدہ خواتین کے لئے بیت المال کے قیام کے مطا لبے کے بعد اب دارالقضا میں خاتون قاضی کی مناسب نمائندگی کا مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔

    • ETV
    • Last Updated :
    • Share this:

      لکھنؤ۔ ایک  نشست میں تین طلاق  کو ختم  کرنےاور بیواوں و طلاق شدہ خواتین کے لئے بیت المال کے قیام کے مطا لبے کے بعد اب دارالقضا میں خاتون قاضی کی  مناسب نمائندگی کا  مطالبہ بھی زور پکڑ رہا ہے۔ آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہی دیگر مسلم تنظیمیں بھی اس حق میں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خاتون قاضی سے عورتیں اپنے مسائل آسانی سے بیان کرسکتی ہیں۔


      وہیں مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ دارالقضا میں خواتین کی نمائندگی کے تئیں پرسنل لا بورڈ پہلے سے ہی سنجیدہ پہل کر رہا ہے۔ شرعی معاملوں کے حل کےلئے شرعی عدالتوں یا دارالقضا کی اہمیت سے انکار نہیں لیکن ان اداروں کے پاس سزا دینے کا اختیار نہ ہونے سے بالآخر معاملہ مقامی قانونی عدالتوں میں پہنچتا ہے جہاں ایک طویل عمرانصاف کے انتظار میں گذر جاتی ہے۔

      مذہبی امور میں مردوں کی بالادستی کو چیلنج  کرنے کے ساتھ ہی اب مسلم خواتین کی مناسب نمائندگی کی آوازیں بھی اٹھنے لگی ہیں۔ خواتین تنظیمیں اپنے مسائل کے حل کے لئے اب خود آگے آنا چاہتی ہیں۔


      maulana khalid rashed farangi



      آل انڈیا مسلم خواتین پرسنل لا بورڈ کی طرف سے ملک کے سبھی دارالقضا میں خاتون قاضی کی تقرری و نمائندگی کا مسئلہ اٹھانے کے بعد  اب دیگر تنظیمیں بھی اس مطالبے کی حمایت میں آگے آرہی ہیں ۔ خاتون قاضی کی تقرری کے سوال پر آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے وضاحت پیش کی ہے۔ بورڈ کے اہم رکن مولانا خالد رشید فرنگی محلی کا کہنا ہے کہ بیشتر دارالقضا میں خاتون قاضی مقرر ہیں لیکن یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو ہرکسی کو سونپی نہیں جا سکتی۔

      First published: