ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ آج،ماڈل نکاح نامہ میں ہو سکتی ہے ترمیم

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تین روزہ میٹنگ آج سے حیدرآباد میں ہوگی۔اس میٹنگ میں کئی اہم مسائل پربات ہوگی۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں پرسنل لا کے ماڈل نکاح نامہ میں ترمیم کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔میٹنگ میں سبھی قاضیوں کو بتایا جائیگا کہ نکاح پڑھاتے وقت نکاح نامہ میں یہ پوائنٹ بھی شامل کریں گے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک بیٹھک میں تین طلاق کا استعمال نہیں کریں گے۔یعنی ایک بار میں تین طلاق نہیں دیں گے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ آج،ماڈل نکاح نامہ میں ہو سکتی ہے ترمیم
آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں ماڈل نکاح نامہ میں ہو سکتی ہے ترمیم

نئی دہلی۔آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تین روزہ میٹنگ آج سے حیدرآباد میں ہوگی۔اس میٹنگ میں کئی اہم مسائل پربات ہوگی۔ذرائع کے مطابق میٹنگ میں پرسنل لا  کے ماڈل نکاح نامہ میں ترمیم کرنے کی بات کہی جا رہی ہے۔میٹنگ میں سبھی قاضیوں کو بتایا جائیگا کہ نکاح پڑھاتے وقت نکاح نامہ میں یہ پوائنٹ بھی شامل کریں گے کہ شوہر اور بیوی دونوں ایک بیٹھک میں تین طلاق کا استعمال نہیں کریں گے۔یعنی ایک بار میں تین طلاق نہیں دیں گے۔


سپریم کورٹ کے فیصلے پر ہوگا عمل


مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا ہیکہ سپریم کورٹ کےذریعے دئے گئے فیصلے پر پوری طرح سے عمل کیا جائے۔


نکاح نامہ میں ہو سکتی ہے ترمیم

حیدرآباد میں 9سے 11فروری تک ہونے والی آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی میٹنگ میں کئی اہم مسائل پر بحث ہو سکتی ہے۔ان مسئلوں میں سب سے زیادہ اہم تین طلاق کا معاملہ ہے۔بتایا جارہا ہیکہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ،ماڈل نکاح نامہ میں ترمیم کی جا سکتی ہے۔مولاناخالد رشید فرنگی لکھنؤ سے حیدر آباد کیلئے روانہ ہو گئے ہیں۔اس دوران مولانا خالد نے کہا ہیکہ سپریم کورٹ کے ذریعہ دئے گئے فیصلے کو مکل طور پرعمل میں لایا جائے۔

حکومت غلطیاں ٹھیک کرے،تب کریں گے بل کا استقبال:مسلم پرسنل لا بورڈ

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے جمعرات کو کہا کہ اگر حکومت سبھی غلطیان دور کر دیتی ہے تب وہ تین طلاق پرپابندی عائد کرنے والے بل کا خیر مقدم کریں گے۔ اس معاملے پر حکمت عملی کے نقطہ نظر کو پیش کرنے کے لئےاپنے مکمل سیشن بل سے ایک دن پہلے بورڈ نے یہ صاف کر دیا کہ وہ بل کے خلاف نہیں ہے۔لیکن وہ موجودہ شکل کے ساتھ اس کو قبول نہیں کریگا۔بورڈ سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے بورڈ کے ممبر اسد الدین اویسی کے ساتھ پریس کانفرنس کی۔

انہوں نے الزام لگایا کہ بی جے پی کی قیادت والی حکومت قانون کے ذریعہ سے طلاق کے سبھیعمل پر پابندی لگانے کی کوشش کر رہی ہے اور مسلم شوہروں کو طلاق کے حقوق سے محروم کر رہی ہے۔تمام اسلامی نظریات کی نمائندگی کرنے والے بورڈ نے کہا کہ ہمارےصدر کی جانب سے تحریری خط پرہمیں  وزیر اعظم کے دفتر سے ابھی تک کوئی جواب نہیں ملا ہے۔واضح ہو کہ خط میں وزیر اعظم کا دھیان اس بل کے قصورواروں کی طرف دلایا گیا تھااور اپنے خیالات کو پورا کرنے کے مطالبہ کی کوشش کی گئی تھی۔
First published: Feb 09, 2018 09:24 AM IST