ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

طلاق ثلاثہ کا معاملہ : مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں داخل کیا جواب ، کہا : سماج میں اصلاح کے نام پر قانون میں تبدیلی ممکن نہیں

طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پر مسلم پرسنل لا کو دوبارہ تحریر نہیں کیا جاسکتا ہے

  • Pradesh18
  • Last Updated: Sep 02, 2016 06:29 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
طلاق ثلاثہ کا معاملہ : مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ میں داخل کیا جواب ، کہا : سماج میں اصلاح کے نام پر قانون میں تبدیلی ممکن نہیں
طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پر مسلم پرسنل لا کو دوبارہ تحریر نہیں کیا جاسکتا ہے

نئی دہلی : طلاق ثلاثہ کے معاملہ پر آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے سپریم کورٹ میں اپنا جواب داخل کردیا ہے۔ مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ سماج میں اصلاح کے نام پر مسلم پرسنل لا کو دوبارہ تحریر نہیں کیا جاسکتا ہے ۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے اپنے حلف نامہ داخل میں عدالت عظمی کو بتایا کہ پرسنل لاء کو سماجی بہتری کے نام پر دوبارہ نہیں لکھا جاسکتا ۔ ساتھ ہی ساتھ حلف نامے میں مسلم پرسنل لاء بورڈ نے تین طلاق کو چیلنج دینے کو بھی غیر آئینی قرار دیا ۔ پرسنل لاء بورڈ کی دلیل ہے کہ پرسنل لاء کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ ایسا کرنا آئین کے خلاف ہے۔

پرسنل لاء بورڈ نے عدالت عظمی کو بتایا کہ پرسنل لاء کوئی قانون نہیں ہے۔ یہ مذہب سے وابستہ ایک ثقافتی معاملہ ہے۔ ایسے میں کورٹ طلاق کی قانونی حیثیت طے نہیں کر سکتا۔ اپنے حلف نامہ میں تین طلاق کو جائز قرار دیتے ہوئے بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا کہ مذہبی امور پر عدالت فیصلہ نہیں دے سکتا۔

اس سے پہلے 27 اگست کو اس بات کی سماعت ہوئی تھی کہ کیا اسلام میں کسی شخص کو چار شادیاں کرنے کی اجازت ہے؟ کیا طلاق کے بغیر شوہر دوسری شادی کر سکتا ہے؟ چیف جسٹس ٹی ایس ٹھاکر نے اشارہ دیا تھا کہ بادی النظر ایسا لگتا ہے کہ مسلم شخص کیلئے پہلی بیوی کو طلاق دئے بغیر چار بیویاں رکھنے میں کچھ بھی غلط نہیں ہے۔ بنچ میں شامل جسٹس اے ایم كانولكر اور ڈی وائی چندرچوڑ نے کہا تھا کہ جب تک مسلم پرسنل لاء کے تحت تین طلاق کی اجازت کو ختم نہیں کیا جاتا، اس وقت تک کوئی بھی شخص تین بار طلاق کہہ کر بیوی سے الگ سکتا ہے۔

تاہم، بینچ نے طلاق ثلاثہ کو چیلنج کرنے والی درخواست پر نوٹس جاری کیا تھا اور ہدایت دی کہ اس عرضی کو ایسی ہی دیگر درخواستوں کے ساتھ منسلک کردیا جائے، جس میں مرکزی حکومت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے پہلے ہی ان کی رائے طلب کی گئی ہے۔

First published: Sep 02, 2016 06:29 PM IST