உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اتراکھنڈ کی جنرل باڈی میٹنگ کا انعقاد

    رام نگر (اتراکھنڈ)۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اتراکھنڈ کے زیراہتمام صوبائی جنرل باڈی میٹنگ رام نگر (اتراکھنڈ) میں زیرصدارت ڈاکٹر محمد اسلم خاں قاسمی منعقد ہوئی۔

    رام نگر (اتراکھنڈ)۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اتراکھنڈ کے زیراہتمام صوبائی جنرل باڈی میٹنگ رام نگر (اتراکھنڈ) میں زیرصدارت ڈاکٹر محمد اسلم خاں قاسمی منعقد ہوئی۔

    • Pradesh18
    • Last Updated :
    • Share this:

      رام نگر (اتراکھنڈ)۔ آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس اتراکھنڈ کے زیراہتمام صوبائی جنرل باڈی میٹنگ رام نگر (اتراکھنڈ) میں زیرصدارت ڈاکٹر محمد اسلم خاں قاسمی منعقد ہوئی۔ اس موقع پر مدعو خصوصی کی حیثیت سے ممتاز عالم دین حضرت مولانا محمد مودود مدنی نے شرکت فرمائی۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو لوگ خدمت کی غرض سے اور لوگوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے کام کرتے ہیں ان کو دین و دنیا دونوں جہان میں عزت اور بھلائی نصیب ہوتی ہے۔ طب یونانی کا بنیادی مقصد حقیقت میں عوام الناس کی خدمت کرنا اور فائدہ پہنچانا ہے۔ اس خدمت کی مختلف نوعیت ہیں۔


      انہوں نے مزید کہا کہ بددیانتی سے دور رہ کر محض کاروباری اعتبار سے جو لوگ مصروف ہیں وہ بھی ایک بڑی خدمت میں شمار کیے جائیں گے۔ البتہ دین اسلام کی دہائی دے کر تجارتی کاروبار نہیں کرنا چاہیے اور ہر ممکن دیانت داری کے ساتھ ہی تجارت کی جائے۔ مولانا نے اپنے خطاب میں یہ بھی کہا کہ اصولِ علاج میں یونانی سب سے بہترین اور پاکیزہ طریقہ علاج ہے۔ انہوں نے اکابر اطباء کا ذکر کرتے ہوئے اس موضوع پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔


      آل انڈیا یونانی طبّی کانگریس کے سکریٹری جنرل ڈاکٹر سیّد احمد خاں نے بطور خاص شرکت کی اور ریاست اتراکھنڈ میں طب یونانی کی صورت حال کا جائزہ پیش کیا۔ اس موقع پر وید شوبن گری گوسوامی، آنند لال بمسیا، حکیم لئیق احمد، عبدالحلیم خاں، ڈاکٹر محمد حنیف (ڈاکٹر فوجی) اور ڈاکٹر نفیس احمد انصاری وغیرہ نے بھی اظہار خیال کیا۔ میٹنگ میں اتفاق رائے سے حکومت اتراکھنڈ سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اپنے وعدہ کے مطابق جلد از جلد ریاست میں ایک گورنمنٹ یونانی میڈیکل کالج قائم کرے اور محکمہ آیوش میں ڈپٹی ڈائرکٹر یونانی کے تقرر کو یقینی بنائے تاکہ ریاست اتراکھنڈ میں طب یونانی کو ترویج و ترقی کے مواقع آیوروید کے مساوی حاصل ہوسکیں۔ تمام شرکا کا شکریہ ڈاکٹر محمد عمر نے ادا کیا۔

      First published: