اپنا ضلع منتخب کریں۔

    پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے کل جماعتی اجلاس آج، مختلف پارٹیوں کے لیڈر ہوں گے شامل

    پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے کل جماعتی اجلاس آج، مختلف پارٹیوں کے لیڈر ہوں گے شامل

    پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے کل جماعتی اجلاس آج، مختلف پارٹیوں کے لیڈر ہوں گے شامل

    حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے مناسب ڈھنگ سے جاری رہنے کے لیے سبھی پارٹیوں کے لیڈروں سے تعاون کی امید ظاہر کی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • New Delhi, India
    • Share this:
      حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس سے پہلے منگل کو کل جماعتی اجلاس طلب کیا ہے، جس میں مختلف پارٹیوں کے ایوان کے قائدین حصہ لیں گے۔ اس میٹنگ میں ایوان کا پرسکون انداز سے کام کاج یقینی بنانے، سیشن کے دوران قانون سازی کے کاموں اور اس سے متعلق اہم موضوعات پر بات چیت کا امکان ہے۔ سرمائی اجلاس 7 دسمبر کو شروع ہوگا اور 29 دسمبر کو ختم ہوگا۔ اس اجلاس میں 17 نشستیں ہوں گی۔ ذرائع نے بتایا کہ لوک سبھا اسپیکر اوم برلا منگل کی شام بزنس ایڈوائزری کمیٹی کی میٹنگ کریں گے۔

      اس مرتبہ روایتی طور پر سیشن سے پہلے منعقد کیے جانے والے کل جماعتی اجلاس کے مقام پر بزنس ایڈوائزری کمیٹی کا اجلاس بلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومت نے سرمائی اجلاس کے دوران پیش کیے جانے والے 16 بلوں کی فہرست جاری کی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں:
      'ایک دن پاکستان کی پارلیمنٹ پر لہرائیں گے ترنگا'، کون ہیں ایسا کہنے والے پروفیسر شیخ صادق؟

      یہ بھی پڑھیں:
      بھوپال کی شاہی موتی مسجد کے گنبد پر پھر نصب کیا گیا سونے کا کلس

      دہلی میں گری چار منزلہ عمارت، مچی افراتفری، جان و مال کا نقصان نہیں، دیکھئے ویڈیو

      لوک سبھا و راجیہ سبھا میں مختلف پارٹیوں کے قائدین کو کیا گیا مدعو
      پارلیمانی امور کے وزیر پرہلاد جوشی نے اس میٹنگ کے لیے لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں مختلف پارٹیوں کے قائدین کو مدعو کیا ہے۔ اس میں وزیراعظم نرینر مودی کے حاضر رہنے کا امکان ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں لیے جانے والے مختلف قانون سازی کے کاموں اور اہم مدعوں پر بحث کے لیے لوک سبھا و راجیہ سبھ امیں سیاسی پارٹیوں کے ایوان کے قائدین کو مدعو کیا گیا ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس کے مناسب ڈھنگ سے جاری رہنے کے لیے سبھی پارٹیوں کے لیڈروں سے تعاون کی امید ظاہر کی ہے۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: