اپنا ضلع منتخب کریں۔

    مہاراشٹرمیں ماک ڈرل کےدوران ’اللہ ہواکبر‘ کےنعرے، مسلم رہنماؤں کوتشویش، وکلاء کے اعتراضات جمع

    تصویر بشکریہ ANI

    تصویر بشکریہ ANI

    مہاراشٹر کے چندر پور کے ایک مندر میں پولیس کی ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔ مقامی مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماک ڈرل کے دوران پولیس نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے کرتب دکھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موک ڈرل کے دوران پولیس کی مسلم کمیونٹی کے تئیں نفرت عوام کے سامنے آ گئی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Mumbai, India
    • Share this:
      مہاراشٹرا کے اورنگ آباد میں انسداد دہشت گردی موک ڈرل نے ایک تنازعہ کو جنم دیا جب ڈمی دہشت گردوں نے مبینہ طور پر ایک مخصوص کمیونٹی سے منسلک نعرے لگائے۔ 11 جنوری کو مہاراشٹر کے چندر پور کے ایک مندر میں پولیس کی ایک موک ڈرل کا انعقاد کیا گیا۔ مقامی مسلم رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ماک ڈرل کے دوران پولیس نے دہشت گردوں کو قابو کرنے کے لیے کرتب دکھائے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ موک ڈرل کے دوران پولیس کی مسلم کمیونٹی کے تئیں نفرت عوام کے سامنے آ گئی۔

      دوسری طرف وکلاء کے ایک گروپ نے اس معاملے پر ضلعی پولیس حکام کو ایک میمورنڈم پیش کیا ہے، جبکہ پولیس سپرنٹنڈنٹ رویندر سنگھ پردیشی نے اتوار کو کہا کہ اس طرح کی غلطی کو دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے تمام کوششیں کی جائیں گی۔ یہ موک ڈرل 11 جنوری کو مشہور مہاکالی مندر میں منعقد کی گئی تھی، اس نے ایک منظر پیش کیا گیا، جس میں دہشت گردوں کے ایک گروپ نے عبادت گاہ پر قبضہ کر لیا اور عقیدت مندوں کو یرغمال بنا لیا، اسی دوران سیکورٹی فورسز نے انہیں پکڑ لیا۔

      رابطہ کرنے پر ایس پی رویندر سنگھ پردیشی نے کہا کہ ان کا محکمہ اس طرح کی غلطی کو دوبارہ نہ ہونے کو یقینی بنانے کے لیے ضروری اقدامات کرے گا۔ حکام نے بتایا کہ یہ فرضی مشق مقامی پولیس، انسداد دہشت گردی اسکواڈ، خصوصی جنگی یونٹ C-60 کے اہلکاروں نے کی تھی۔


      ایک شکایت کنندہ نے میڈیا کو بتایا کہ دہشت گرد کا کردار ادا کرنے والوں نے ماک ڈرل کے دوران ’اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا، جو ہمیں پسند نہیں ہے۔ مسلمان ایک سافٹ ٹارگٹ بن گئے ہیں۔ کیوں دہشت گردوں کو فرضی مشقوں میں مسلمان کے طور پر دکھایا جا رہا ہے؟ آپ یہ کیوں کہہ رہے ہیں کہ ایک دہشت گرد داڑھی، مونچھیں، کرتا پاجامہ رکھ کر ایسا لگتا ہے؟

      یہ بھی پڑھیں: 

      وکیل فرات بیگ نے کہا کہ مک ڈرل میں دہشت گردوں کا کردار ادا کرنے والے اہلکاروں کو خاص نعرے لگاتے ہوئے مشق کی ویڈیوز سے پتہ چلتا ہے کہ یہ ایک کمیونٹی کے َخلاف منفی پروپیگنڈہ ہے اور یہ باور کیا گیا ہے کہ تمام دہشت گرد اسی کمیونٹی سے ہیں۔

      انھوں نے کہا کہ ہم نے اس طرح کے نعرے بازی اور تصویر کشی کے خلاف ضلع ایس پی کے دفتر میں ایک میمورنڈم جمع کرایا ہے۔ پولیس کا یہ عمل ایک کمیونٹی کو بدنام کرنے کے مترادف ہے۔ ظاہر ہے، فرضی مشق کے اسکرپٹ کی نگرانی ایس پی اور دیگر اعلیٰ حکام نے کی ہوگی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: