உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

     کیوٹی فال پر پکنک منانے گیا تھا نوجوانوں گروپ، جھرنے میں نہاتے وقت پیش آیا بھیانک حادثہ کہ اڑ گئے سب کے ہوش۔۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں واقع کیوٹی فال پکنک اسپاٹ پر الہ آباد کے 6 نوجوانوں کی ڈوبنے سے ہوئی موت ہو گئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی عمر ۱۷ برس لیکر بیس برس تک بتائی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں واقع کیوٹی فال پکنک اسپاٹ پر الہ آباد کے 6 نوجوانوں کی ڈوبنے سے ہوئی موت ہو گئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی عمر ۱۷ برس لیکر بیس برس تک بتائی جا رہی ہے۔

    واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں واقع کیوٹی فال پکنک اسپاٹ پر الہ آباد کے 6 نوجوانوں کی ڈوبنے سے ہوئی موت ہو گئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی عمر ۱۷ برس لیکر بیس برس تک بتائی جا رہی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
    مدھیہ پردیش (Madhya Pradesh) کے ریوا ضلع میں بیحد دردناک حادثہ پیش آیا ہے۔ حادثے میں 6 نوجوانوں کی موت کی خبر نے سب کو ہلاکر کر رکھ دیا ہے۔ دراصل ان سب کا تعلق الہ آباد (Allahabad) سے ہے۔ ییہ سبھی جوان پکنک منانے کیلئے وہاں گئے تھے۔ واضح رہے کہ مدھیہ پردیش کے ریوا ضلع میں واقع کیوٹی فال پکنک اسپاٹ پر الہ آباد کے 6 نوجوانوں کی ڈوبنے سے ہوئی موت ہو گئی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والے نوجوانوں کی عمر ۱۷ برس لیکر بیس برس تک بتائی جا رہی ہے۔

    دراصل تمام نوجوان کیوٹی فال (Keoti Falls) پر پکنک منانے گئے تھے۔ یہ حادثہ جھرنے میں نہاتے وقت پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق دو دن پہلے الہ آباد سے ۱۳ نوجوانوں پر مشتمل ایک گروپ مدھیہ پردیش کے تفریحی مقام کیوٹی فال پر پکنک منانے گیا تھا۔ جھرنے میں نہاتے وقت تیز بہاؤ میں 6 نوجوان بہہ گئے۔ ایم پی پولیس نے پانچ نوجوانوں کی لاشیں بر آمد کر لی ہیں جبکہ ایک نوجوان کی تلاش کا کام جاری ہے۔

    حادثے کا شکارہونے والے نوجوانوں کا تعلق الہ آباد (Allahabad) شہر کے مختلف علاقوں سے بتایا جا رہا ہے۔ پولیس نے پانچ جوانوں کا پوسٹ مارٹم کرانے کے بعد ان کی لاشوں کو لواحقین کو سونپ دیا ہے۔ واضح رہے کہ ریوا ضلع الہ آباد (Allahabad) کا پڑوسی ضلع ہے۔ بارش کے موسم میں یہاں سے اکثر نوجوان کیوٹی فال پکنک منانے جاتے ہیں۔ اس پہلے بھی کیوٹی فال میں کئی سنگین حادثے پیش آ چکے ہیں۔
    Published by:sana Naeem
    First published: