உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: انٹرکاسٹ شادیوں کی تفصیلات عوامی کرنا غلط

    الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: انٹر کاسٹ شادیوں کی تفصیلات عوامی کرنا غلط

    الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ: انٹر کاسٹ شادیوں کی تفصیلات عوامی کرنا غلط

    اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اگر شادی کر رہے لوگ نہیں چاہتے تو ان کی تفصیل عوامی نہ کی جائے۔ ایسے لوگوں کے لئے اطلاع نشر کرکے اس پر لوگوں کا اعتراض نہ لیا جائے۔

    • Share this:
      پریاگ راج: اترپردیش میں لو جہاد کے معاملوں کے درمیان شادیوں کے رجسٹریشن کو لے کر الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنو بینچ نے بڑا فیصلہ سنایا ہے۔ ہائی کورٹ نے شادیوں سے پہلے نوٹس شائع کرنے اور اس پر اعتراض کرنے کو غلط تسلیم کیا ہے۔ عدالت نے اسے آزادی اور رازداری کے بنیادی حقوق کی پامالی قرار دیا ہے۔ عدالت نے خصوصی شادی ایکٹ کی دفعہ 6 اور 7 کو بھی غلط بتایا ہے۔ عدالت نے کہا کہ کسی کی مداخلت کے بغیر پسند کا جیون ساتھی منتخب کرنا شخص کا بنیادی حق ہے۔

      اپنے فیصلے میں عدالت نے کہا کہ اگر شادی کر رہے لوگ نہیں چاہتے تو ان کی تفصیل عوامی نہ کی جائے۔ ایسے لوگوں کے لئے اطلاع نشر کرکے اس پر لوگوں کا اعتراض نہ لیا جائے۔ حالانکہ شادی افسر کے سامنے یہ متبادل رہے گا کہ وہ دونوں فریق کی شناخت، عمر اور دیگر حقائق کی تحقیقات کرلیں۔ عدالت نے تبصرہ کیا ہے کہ اس طرح کا قدم صدیوں پرانا ہے، جو نوجوان پیڑھی پر بربریت اور نا انصافی کرنے جیسا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: