ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد ہائی کورٹ: سیکس بھی زندگی کے حق کا حصہ، لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کو ملے سیکورٹی

الہ آباد ہائی کورٹ میں پہلی بار ایک ہم جنس پرست مسلم خاتون کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک دوسری خاتون کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی مسلم خاتون نے ہائی کورٹ سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے اہم فیصلے میں دونوں ہم جنس پرست خواتین کو لیو این ریلیشن شپ میں رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

  • Share this:
الہ آباد ہائی کورٹ: سیکس بھی زندگی کے حق کا حصہ، لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی خواتین کو ملے سیکورٹی
الہ آباد ہائی کورٹ کی فائل فوٹو

الہ آباد ہائی کورٹ میں پہلی بار ایک ہم جنس پرست مسلم خاتون کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ ایک دوسری خاتون کے ساتھ لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے والی مسلم خاتون نے ہائی  کورٹ سے سکیورٹی فراہم کرنے کی درخواست کی ہے۔ ہائی کورٹ نے  اپنے اہم فیصلے میں دونوں ہم جنس پرست خواتین کو لیو این ریلیشن شپ میں رہنے کی اجازت دے دی ہے۔


ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ عرضی گذار دونوں خواتین بالغ ہیں اور اپنی مرضی کے مطابق جنسی رشتے طے کرنے کو آزاد ہیں۔عدالت نے مقامی پولیس محکمہ کو حکم دیا ہے کہ دونوں ہم جنس پرست خواتین کو ہر طرح کی سکیورٹی فراہم کی جائے۔ شاملی ضلع کے تیمور شاہ محلے کی رہنے والی مسلم خاتون اور وویک وہار کی غیر مسلم خاتون کافی عرصے سے لیو ان ریلیشن میں رہ رہی ہیں ۔ دونوں ہی ملازمت پیشہ خاتون ہیں اور معاشی طور سے خود کفیل ہیں۔ ان دونوں خواتین کو اپنے رشتے کو لے کر سماج کی طرف سے سخت مخالفت کا سامنا ہے۔


عرضی گزار خواتین کا کہنا ہے کہ گھر اور  سماج کی طرف سے انہیں مسلسل  پریشان کیا جا رہا  ہے  اور آئے دن ان کو دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔ عرضی میں دونوں خواتین نے پولیس کی طرف سے سکیورٹی فراہم کرنے کی عدالت سے درخواست کی تھی۔


معاملے  کی سماعت کرتے ہوئے جسٹس  ششی کانت گپتا اور جسٹس پنکج بھاٹیا کی مشترکہ بنچ نے سیکس کو زندگی کے حق کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سماجی و اخلاقی اصول عدالت کے فیصلوں کو متاثر نہیں کر سکتے۔ عدالت نے کہا کہ چوں کہ لیو ان ریلیشن شپ کے معاملے میں سپریم کورٹ اپنا فیصلہ پہلے ہی دی چکی ہے لہٰذا  اب اس معاملے میں ہائی کورٹ کسی طرح کی مداخلت نہیں کر سکتی۔عدالت نے شاملی پولیس محکمہ کو دونوں خواتین کو سکیورٹی مہیا کرانے  کا حکم دیتے ہوئے انہیں اپنی مرضی کے مطابق زندگی گزارنے کی اجازت دی ہے ۔

عرضی گزار کے وکیل محمد نوشاد کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے دونوں خواتین کو لیو ان ریلیشن شپ میں رہنے کی ا جازت دے کر سپریم کورٹ کے سابقہ فیصلے کی پیروی کی ہے۔ ایڈو کیٹ محمد نوشاد کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملک میں لیو ان ریلیشن شپ اورہم جنس پرستی کو قانونی حیثیت مل  چکی ہے ، ایسے میں  اب اس طرح کے رشتوں پر اعتراض کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں رہ جاتا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 04, 2020 02:50 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading