ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الہ آباد ہائی کورٹ نے سلامت انصاری اور پرینکا کھروار کی شادی پر لگائی مہر، کہا۔ 'ہم اسے ہندو۔ مسلم کے طور پر نہیں دیکھتے'

سلامت انصاری نے 19؍ اگست 2019 کو پرینکا کھروار نام کی لڑکی سے اسلامی روایت کے مطابق شادی کی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا نے اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔ اس شادی کے خلاف پرینکا کے والد نے سلامت انصاری کے خلاف اغوا اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ سلامت انصاری نے اس ایف آئی آر کو الہ آباد میں چیلنج کیا تھا۔

  • Share this:
الہ آباد ہائی کورٹ نے سلامت انصاری اور پرینکا کھروار کی شادی پر لگائی مہر، کہا۔ 'ہم اسے ہندو۔ مسلم کے طور پر نہیں دیکھتے'
الہ آباد ہائی کورٹ کی فائل فوٹو

الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) نے اپنے ایک اہم فیصلے میں کہا ہے کہ ملک کے آئین کے مطابق کسی بھی شخص کو اپنی پسند کی شادی کرنے اور مذہب اختیار کرنے کا حق حاصل ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر کوئی شخص  شادی کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرتا ہے تو اسے یہ حق قانونی طور سے حاصل ہے۔


ہائی کورٹ کی ڈویزنل بنچ نے اپنے اہم  فیصلے میں مزید کہا ہے کہ شادی کے لئے مذہب  تبدیل  کرنے پر اعتراض ظاہر کرنے والے الہ آباد ہائی کورٹ کے سابقہ فیصلے قانونی طور سے مناسب نہیں ہیں۔ ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ  کشی نگر کے سلامت انصاری کی عرضی پر دیا ہے۔


واضح رہے کہ سلامت انصاری نے 19؍ اگست 2019 کو پرینکا کھروار نام کی لڑکی سے اسلامی روایت کے مطابق شادی کی تھی۔ شادی کے بعد پرینکا نے اپنا نام عالیہ رکھ لیا تھا۔ اس شادی کے خلاف پرینکا کے والد نے سلامت انصاری کے خلاف اغوا اور پاکسو ایکٹ کے تحت ایف آئی آر درج کرائی تھی۔ سلامت انصاری نے اس ایف آئی آر کو الہ آباد میں چیلنج کیا تھا۔ سلامت انصاری کی طرف سے عدالت میں کہا گیا کہ جس لڑکی سے انہوں نے شادی کی ہے وہ بالغ ہے اور یہ کہ شادی دونوں کی آپسی رضا مندی سے ہوئی ہے۔


ہائی کورٹ  کے جسٹس پنکج نقوی اور جسٹس وییک اگروال نے اس معاملے کی سماعت کی۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ریاست کو کسی بھی فرد کی ذاتی زندگی میں مداخلت کا حق حاصل نہیں ہے۔ عدالت نے یہ بھی کہا کہ پرینکا کھروار اور سلامت کو عدالت ہندو اور مسلم کے طور پر نہیں دیکھتی ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں سلامت انصاری کے خلاف درج ہونے والی ایف آئی آر کو منسوخ کر دیا ہے اور پرینکا اور سلامت انصاری کو بطور شوہر اور بیوی  ساتھ رہنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس  پہلے الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں شادی کے لئے مذہب  تبدیل کرنے کو غیر مناسب قرار دیتے ہوئے اس پر اپنی سخت ناراضگی ظاہر کی تھی۔

 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Nov 24, 2020 02:41 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading