உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد ہائی کورٹ: اعظم خان کی ضمانت پر سماعت مکمل، فیصلہ محفوظ، لیکن مشکلیں برقرار

     ایس پی رکن پارلیمنٹ کو ضمانت اگر ہائی کورٹ اس معاملے میں دے بھی دیتی ہے تو بھی وہ جیل سے باہر نہیں آپائیں گے، کیونکہ سیتاپور جیل میں بند اعظم خان کئی دیگر کیسیز میں بھی ملزم ہیں۔ اس کو لے کر اُن کے لئے جیل سے باہر کی دنیا ابھی آسان نہیں ہے۔

    ایس پی رکن پارلیمنٹ کو ضمانت اگر ہائی کورٹ اس معاملے میں دے بھی دیتی ہے تو بھی وہ جیل سے باہر نہیں آپائیں گے، کیونکہ سیتاپور جیل میں بند اعظم خان کئی دیگر کیسیز میں بھی ملزم ہیں۔ اس کو لے کر اُن کے لئے جیل سے باہر کی دنیا ابھی آسان نہیں ہے۔

    ایس پی رکن پارلیمنٹ کو ضمانت اگر ہائی کورٹ اس معاملے میں دے بھی دیتی ہے تو بھی وہ جیل سے باہر نہیں آپائیں گے، کیونکہ سیتاپور جیل میں بند اعظم خان کئی دیگر کیسیز میں بھی ملزم ہیں۔ اس کو لے کر اُن کے لئے جیل سے باہر کی دنیا ابھی آسان نہیں ہے۔

    • Share this:
      پریاگ راج: الہ آباد ہائی کورٹ (Allahabad High Court) میں سماج وادی پارٹی (Samajwadi Party) کے رکن پارلیمنٹ اعظم خان (Azam Khan) کی ضمانت عرضی پر سماعت مکمل ہوگئی۔ عدالت نے تمام دونوں فریقین کی تمام دلیلیں سننے کے بعد فیصلہ محفوظ رکھ لیا ہے۔ اعظم خان کے وکیلوں و سرکاری وکیل کی دلیلیں سننے کے بعد جسٹس راہل چترویدی کی بنچ نے فیصلہ کو محفوظ کیا ہے۔ اس معاملے میں عدالت اگلے ہفتے اپنا فیصلہ سنا سکتی ہے۔

      سماج وادی پارٹی کے ایم پی جیل میں ہیں۔ ایس پی رکن پارلیمنٹ کو ضمانت اگر ہائی کورٹ اس معاملے میں دے بھی دیتی ہے تو بھی وہ جیل سے باہر نہیں آپائیں گے، کیونکہ سیتاپور جیل میں بند اعظم خان کئی دیگر کیسیز میں بھی ملزم ہیں۔ اس کو لے کر اُن کے لئے جیل سے باہر کی دنیا ابھی آسان نہیں ہے۔ اُترپردیش حکومت کی سختی کے بعد اعظم خان پر قانونی شکنجہ کسا ہے۔ ایس پی لیڈر اور رکن پارلیمنٹ اعظم خان پر الزام ہے کہ انہوں نے سال 2019 میں جائیداد پر قبضہ رکھا ہے۔ اس واقعہ کو لے کر اُن کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ اسی معاملے پر انہوں نے ضمانت عرضی داخل کی تھی۔

      اعظم خان کے وکیلوں نے ان الزاموں کو بے بنیاد بتایا اور عدالت میں کہا کہ اُنہیں بے وجہ سیاسی وجوہات کی بنا پر پھنسایا گیا ہے، جب کہ حکومت کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اعظم خان نے غیر قانونی طریقے سے جائیداد پر قبضہ کیا ہے۔ یہی نہیں جائیداد کو قبضہ کر کے جوہر یونیورسٹی کے احاطے میں رولس مخالف طریقے شامل کیے گئے ہیں۔

      اس معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے دونوں فریقین کو سنا۔ دونوں کی طرف سے رکھے گئے دلائل کو سننے کے بعد عدالت نے اپنا فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ عدالت کا فیصلہ اگلے ہفتے آنے کی اُمید ہے۔

      غور طلب ہے کہ یوپی میں یوگی آدتیہ ناتھ حکومت آنے کے بعد سے ہی ایس پی رکن پارلیمنٹ محمد اعظم خان کی مشکلیں بڑھنی شروع ہوگئی تھیں۔ اعظم خان کے خلاف درجنوں مقدمے درج ہوئے تھے، جس کے بعد اعظم خان کو جیل جانا پڑا تھا۔


      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں ۔
      Published by:Shaik Khaleel Farhaad
      First published: