உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ایسے معاملوں میں اب ہائی کورٹ سے نہیں ملے گی کوئی راحت، جانئے کیا ہے پورا معاملہ

    الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، صرف شادی کیلئے مذہب تبدیل کرنا صحیح نہیں

    الہ آباد ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ ، صرف شادی کیلئے مذہب تبدیل کرنا صحیح نہیں

    ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے مذہب کے عقائد اور نظریات کو سمجھے بغیر مذہب تبدیل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔ کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اپنی مرضی کی شادی کرنے کے لئے مذہب کو ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔

    • Share this:
    الہ آباد۔ صرف شادی کرنے کے لئے مذہب تبدیل کرنے کے معاملے میں ایک نئی قانونی بحث چھڑ گئی ہے۔ الہ آباد ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں صرف شادی کرنے کے مقصد سے آبائی مذہب سے بغاوت کرنے کی روش کو ہائی کورٹ نے ناجائز قرار دیا ہے۔ ہائی کورٹ کا کہنا ہے کہ کسی دوسرے مذہب کے عقائد اور نظریات کو سمجھے بغیر مذہب تبدیل کرنا کسی بھی طور قابل قبول نہیں ہو سکتا ہے۔ کورٹ نے واضح کیا ہے کہ اپنی مرضی کی شادی کرنے کے لئے مذہب کو ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔

    دراصل معاملہ یو پی کے مظفر نگر کا ہے۔ گذشتہ 20 جون 2020کو ثمرین نام کی مسلم لڑکی نے نتن کمار نام کے ایک ہندو لڑکے سے شادی کرنے کے لئے اپنا مذہب تبدیل کرلیا یعنی ثمرین نے اسلام چھوڑ کر ہندو مذہب اختیار کر لیا اور اپنا نام بدل کر پرییانشی رکھ لیا۔ مذہب تبدیل کرنے کے بعد 31 جولائی کو ثمرین نے ہندو رسم و رواج کے ساتھ ایک مندر میں نتن کمار سے شادی کر لی لیکن شادی کے کچھ ہی دنوں بعد ثمرین نے الہ آباد ہائی کورٹ میں ایک عرضی داخل کی۔

    اس عرضی میں ثمرین نے اپنے گھر والوں پرالزام عائد کیا تھا کہ مذہب تبدیل کرنے کے بعد ان کے اہل خانہ اور مسلم سماج کی طرف سے ان کو اور ان کے خاوند نتن کمار کو ہراساں کیا جا رہا ہے۔ سماعت کے دوران عدالت نے اس بات کا نوٹس لیا کہ لڑکی نے محض شادی کرنے کی غرض سے اپنا آبائی مذہب تبدیل کیا ہے۔ جسٹس ایم سی ترپاٹھی کی بنچ نے یہ بھی پایا کہ عرضی گذار لڑکی نے ہندو مذہب سے متاثر ہوکر نہیں بلکہ شادی کرنے کے مقصد سے اپنا مذہب تبدیل کر لیا ہے۔ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں 2014 کا نور جہاں بیگم اور انجلی مشرا کے مقدمے کا بھی حوالہ دیا جس میں عدالت نے کہا ہے کہ شادی کیلئے مذہب تبدیل کرنا قابل قبول نہیں ہے۔ کورٹ نے اپنے فیصلے میں واضح کیا ہے کہ صرف شادی کرنے کے لئے مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو درست نہیں قرار دیا جا سکتا. عدالت نے اس معاملے میں عرضی گذار کو مظفر نگر کی مقامی عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

    اس فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے الہ آباد ہائی کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ سید فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ الہ آباد ہائی کورٹ کا یہ فیصلہ سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ فرمان احمد نقوی کا کہنا ہے کہ شادی کے لئے مذہب تبدیل کرنا ایک عام رجحان بنتا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ دنیوی فائدے کے لئے مذہب کا غلط استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ فرمان نقوی کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہائی کورٹ کے حالیہ فیصلے میں تبدیلی مذہب پر روک نہیں لگائی گئی ہے بلکہ اس کے غلط استعمال پر عدالت نے روک لگانے کو کہا ہے۔
    Published by:Nadeem Ahmad
    First published: