ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

لو جہاد کرنے والے نوجوان کو لڑکی کے نام تین لاکھ کی کرانی ہوگی ایف ڈی: الہ آباد ہائی کورٹ

واضح رہے کہ یو پی کے بجنور ضلع کی سنگیتا نے شاداب نام کے مسلم لڑکے سے لو میرج کی تھی۔ لیکن لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے زدو کوب کئے جانے اور طرح طرح کی دھمکیاں ملنے کے بعد سنگیتا نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

  • Share this:
لو جہاد کرنے والے نوجوان کو لڑکی کے نام تین لاکھ کی کرانی ہوگی ایف ڈی: الہ آباد ہائی کورٹ
علامتی تصویر

الہ آباد۔ یوپی میں مبینہ لو جہاد کے معاملے تیزی سے سامنے آ رہے ہیں۔ لو جہاد کے ایک تازہ معاملے  میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نہایت اہم فیصلہ دیا ہے۔ مسلم لڑکے کے ساتھ ہندو لڑکی کی شادی کے معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے لڑکی کو مالی پیکج دینے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے لڑکے کو ایک ماہ کے اندر لڑکی  کے نام تین لاکھ روپئے کی بینک ایف ڈی کرانے کا حکم دیا  ہے۔


عدالت نے مسلم لڑکے کو حکم دیا ہے کہ وہ لڑکی  کے نام تین لاکھ روپئے بطور فکس ڈپازٹ بینک میں جمع کرائے تاکہ اس کو مالی تحفظ حاصل ہو سکے ۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں  یہ بھی کہا ہے کہ لڑکی کو مذہب تبدیل کرنے اور دوسرے مذہب  کے لڑکے سے شادی کرنے کے بعد خاندان اور سماج کی طرف سے سخت ناراضگی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایسے میں لڑکی کو سہارا دینے کے لئے مالی سکیورٹی کی سخت ضرورت ہے۔


لو جہاد کے ایک تازہ معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ نے نہایت اہم فیصلہ دیا ہے


واضح رہے کہ یو پی کے بجنور ضلع کی سنگیتا نے شاداب نام کے مسلم لڑکے سے لو میرج کی تھی۔ لیکن لڑکی کے گھر والوں کی طرف سے زدو کوب کئے جانے اور طرح طرح کی دھمکیاں  ملنے کے بعد سنگیتا نے الہ آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس سلل سر یواستو نے معاملے کی سماعت کرتے ہوئے کہا کہ بالغ لڑکی اور لڑکے کو اپنی مرضی کی شادی کرنے کا پورا اختیار ہے ۔ لہٰذا ان کی شادی میں کسی کو مداخلت کرنے کا اختیار نہیں ہے۔

عدالت نے کہا کہ نکاح نامے کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ عرضی گذار کے شوہر نے مہر کی رقم بہت کم مقرر کی ہے۔ ایسے میں لڑکی کو مالی تحفظ دینے کے لئے اس کے نام بینک میں تین لاکھ روپئے کی ایف ڈی کرائی جائے۔ عدالت نے اس معاملے کی مزید سماعت کے لئے 8 فروری کی تاریخ مقرر کی ہے۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jan 09, 2021 01:59 PM IST