ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سی اے اے تشدد: ملزموں کےپوسٹر چسپاں کرنے پر ہائی کورٹ سخت، بتایا۔ حق رازداری کی خلاف ورزی

لکھنؤ میں مظاہرین کےپوسٹرلگائےجانےکےتعلق سےالہ آبادہائی کورٹ آج سنوائی کرےگا۔اس سےپہلےکورٹ نےلکھنؤ پولیس کمشنر اورضلع افسر کوطلب کیاتھا۔ عدالت نےپوچھا تھاکہ کس قانون کےتحت مظاہرین کی تصویریں چسپاں کی گئیں۔واضح رہےکہ ہائی کورٹ کےچیف جسٹس گووند ماتھر نےاس معاملےکااز خود نوٹس لیا ہے۔ یاد رہےکہ لکھنؤ میں انیس دسمبرکوشہریت قانون کےخلاف احتجاج پرتشددہوگیاتھا۔

  • Share this:
سی اے اے تشدد: ملزموں کےپوسٹر چسپاں کرنے پر ہائی کورٹ سخت،  بتایا۔ حق رازداری کی خلاف ورزی
لکھنؤ میں مظاہرین کےپوسٹرلگائےجانےکےتعلق سےالہ آبادہائی کورٹ آج سنوائی کرےگا۔اس سےپہلےکورٹ نےلکھنؤ پولیس کمشنر اورضلع افسر کوطلب کیاتھا۔ عدالت نےپوچھا تھاکہ کس قانون کےتحت مظاہرین کی تصویریں چسپاں کی گئیں۔واضح رہےکہ ہائی کورٹ کےچیف جسٹس گووند ماتھر نےاس معاملےکااز خود نوٹس لیا ہے۔ یاد رہےکہ لکھنؤ میں انیس دسمبرکوشہریت قانون کےخلاف احتجاج پرتشددہوگیاتھا۔

پریاگراج: الہ آباد ہائی کورٹ نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف تشدد کےملزمین کے پوسٹروں لگانے کےمعاملے میں سماعت 3 بجے تک ملتوی کردی۔ اترپردیش (ایڈووکیٹ جنرل) کے ایڈووکیٹ جنرل کے نہ پہنچنے کی وجہ سے سماعت ملتوی کردی گئی۔ الہ آباد ہائی کورٹ کو از خود نوٹس لیتے ہوئے اس معاملے پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چیف جسٹس گووند ماتھر نے لکھنؤ کے پولیس کمشنر سجیت پانڈے اور ڈی ایم ابھیشیک پرکاش کو طلب کیا ہے۔ اتوار کی صبح دس بجے دونوں کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا گیا تھا۔ عدالت نے یوپی حکومت سے وضاحت طلب کی ہے۔

عدالت نے لکھنؤ کے ڈی ایم اور ڈویژنل پولیس کمشنر کو ہدایت کی ہے کہ وہ اتوار کی صبح دس بجے ہائی کورٹ کو بتائیں کہ کس قانون کے تحت ایسے پوسٹر لگائے جارہے ہیں۔ عدالت اتوار کو چھٹی ہونے کے باوجود سماعت کرے گی۔ عدالت نے کہا ہے کہ پوسٹروں میں کوئی ذکر نہیں ہے کہ پوسٹر کس قانون کے تحت لگائے گئے ہیں۔ ہائی کورٹ کا ماننا ہے کہ متعلقہ شخص کی تصویر یا پوسٹر کو عوامی جگہ پر ان کی اجازت کے بغیر رکھنا غلط ہے۔ یہ رازداری کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ اتوار کی صبح دس بجے چیف جسٹس گووند ماتھر اور جسٹس رمیش سنہا پر مشتمل ڈویژن بنچ اس کیس کی سماعت کرے گی۔

اس سےپہلےکورٹ نےلکھنؤ پولیس کمشنر اورضلع افسر کوطلب کیاتھا۔ عدالت نےپوچھا تھاکہ کس قانون کےتحت مظاہرین کی تصویریں چسپاں کی گئیں۔ واضح رہےکہ ہائی کورٹ کےچیف جسٹس گووند ماتھر نےاس معاملےکااز خود نوٹس لیا ہے۔ یاد رہےکہ لکھنؤ میں انیس دسمبرکوشہریت قانون کےخلاف احتجاج پرتشددہوگیاتھا۔

واضح رہے  کہ  شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج  19دسمبر کو لکھنؤ میں ٹھاکر گنج اور قیصرباغ علاقے میں ہوئے تشدد کے ملزموں کے خلاف اے ڈی ایم سٹی (ویسٹ ) کی عدالت سے  ریکوری آرڈر جاری ہوا ہے۔ معاملے میںضلع مجسٹریٹ (لکھنؤ) ابھیشیک پرکاش نے کہا کہ تشدد پھیلانے والے سبھی ذمہ دار افراد کے لکھنؤ میں پوسٹرز اور بینرز لگائے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب کی جائیداد منسلک ہوگی۔ یہ پوسٹر تمام چوراہوں پر لگائے گئے ہیں  تاکہ ان کے چہرے بے نقاب ہوسکیں۔


 
First published: Mar 08, 2020 02:39 PM IST