உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    الہ آباد : مسلم تنظیمیں ماگھ میلے میں یاتریوں کی کر رہی ہیں مفت ضیافت کا اہتمام

    الہ آباد

    الہ آباد

    ریاستی حکومت کی طرف سے ماگھ میلے کے لئے خصوصی گائیڈ لائن کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے لیکن ان سب کے با وجود ملک کے دور دراز علاقوں سے سنگم آنے والے افراد کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

    • Share this:
    الہ آباد میں لگنے والا ماگھ میلا پوری دنیا میں گنگا جمنی تہذیب کی علامت کے طور پرجانا جاتا ہے ۔ دریائے گنگا اور جمنا کے سنگم پرلگنے والے اس میلے میں ملک کی مختلف النوع اور رنگا رنگ تہذیب کا عکس صاف طور سے دکھائی دیتا ہے۔ تقریباً ڈیڑھ ماہ تک چلنے والے ماگھ میلے میں جہاں ایک طرف سنگم میں اسنان کرنے والوں کا بھاری ہجوم دکھائی دیتا ہے۔ وہیں دوسری جانب مسلم تنظیمیں باہرسے آنے والے عقیدت مندوں اور سیاحوں کی میزبانی کرنے میں کسی سے پیچھے نہیں رہتیں۔ اس سال کورونا وباء نے ماگھ میلے کا رنگ تھوڑا پھیکا کر دیا ہے۔ ریاستی حکومت کی طرف سے ماگھ میلے کے لئے خصوصی گائیڈ لائن کا اعلان پہلے ہی کیا جا چکا ہے لیکن ان سب کے با وجود ملک کے دور دراز علاقوں سے سنگم آنے والے افراد کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔

    یہ افراد سنگم کنارے روایتی اندازمیں اپنے مذہبی رسومات ادا کر رہے ہیں۔ راحت پہنچانے والی بات یہ ہے کہ آج سے الہ آباد میں کورونا بچاؤ کے لئے ویکسین لگانے کی مہم کا بھی آغاز کیا گیا ہے ۔ اس طرح میلا انتظامیہ نے پورے ماگھ میلے کو کورونا سے محفوظ رکھنے کے لئے پختہ انتظامات کر لئے ہیں ۔ الہ آباد کی مختلف مسلم تنظیمیں ہرسال ماگھ میلا آنے والےعقیدت مندوں کی ضیافت کرتی آئی ہیں ۔ مسلم تنظیمیں میلے میں آنے والے افراد کے لئے جگہ جگہ اسٹال لگا کر ان کے لئے چائے پانی اور لنگر کا انتظام کرتی ہیں ۔ اس بار بھی شہر کی سر کردہ سماجی تنظیم ہندو مسلم ایکتا منچ نے ماگھ میلا آنے والوں کے لئے مختلف مقامات پر لنگر اور بھنڈارے کا اہتمام کیا ہے ۔

    گذشتہ بیس برسوں سے ماگھ میلے میں لنگر لگانے والے سماجی کارکن ارشاد اللہ کا کہنا ہے کہ یہ الہ آباد کی گنگا جمنی تہذیب رہی ہے کہ یہاں کے باشندے تمام مذاہب کے تہوار اور تقریبات مل کرمناتے ہیں ۔ ارشاد اللہ کا کہنا ہے کہ الہ آباد میں لگنے والے کمبھ اورماگھ میلے میں مسلمانوں کی طرف سے سنگم آنے والوں کے لئے مفت ضیافت کے انتظامات گذشتہ کئی دہائیوں سے کئے جا رہے ہیں ۔ ارشاد اللہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہر کی قدیم روایت آیندہ بھی اس طرح سے جاری رکھی جائے گی ۔
    Published by:Sana Naeem
    First published: