ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

الورموب لنچنگ: نشانے پر کیوں ہیں میوات کے مسلمان؟

گایوں کی اسمگلنگ اور موب لنچنگ میں میواب کے مسلمان گئو رکشکوں کے نشانے پر ہیں۔

  • Share this:
الورموب لنچنگ: نشانے پر کیوں ہیں میوات کے مسلمان؟
گایوں کی اسمگلنگ اور موب لنچنگ میں میواب کے مسلمان گئو رکشکوں کے نشانے پر ہیں۔

پہلو خان، عمرمحمد، تعلیم اوراب اکبرخان عرف رکبر.... یہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔ انہیں گایوں کی اسمگلنگ کے شک میں کہیں بھیڑتو کہیں پولیس نے ماردیا۔ یہ لوگ اس میوات کے باشندے تھے، جس کے ہرگاوں میں سو پچاس گائے مل جائیں گی۔ میوات کے لوگوں کا اہم کام زراعت ہے۔ اس کے بعد سب سے زیادہ لوگ ڈیری صنعت سے منسلک ہیں۔


اسی لئے 13 ستمبر 2015 کو آرایس ایس کے نظریے پرعمل پیرا مسلم راشٹریہ منچ نے یہاں مسلمان گائے پالنے والا کا قومی سیمینار کرایا تھا، جس میں  پورے ملک سے لوگ آئے تھے اور انہیں اعزازسے سرفرازکیا گیا تھا۔


میوات کے مسلمانوں نے پروگرام میں شرکت کرنے آئے وزیراعلیٰ منوہر لال کھٹر اور آرایس ایس لیڈر اندریش کمار کو گائے تحفے میں دیا تھا۔ اس کے باوجود گروگرام سے الور تک پھیلا یہ علاقہ گایوں کی اسمگلنگ کے لئے بدنام ہے۔ اسی بدنامی کی وجہ ہے کہ گائے لے کر جانے والے ہرشخص کو لوگ اسمگلر کی نظر سے دیکھتے ہیں۔


mob-1

جبکہ اراولی پہاڑی سے گھرے اس علاقے کے جنگلوں میں اکثر گایوں کا ہجوم لے کرانہیں چراتے ہوئے کوئی نہ کوئی مسلم مل جاتا ہے۔ میوات میں گائے کیئرمہم سے جڑے ریاض الدین کہتے ہیں "یہاں کے مسلمانوں میں بیٹی کی شادی کے بعد لڑکے والوں کوگائے دینے کی روایت ہے"۔

نیوز 18 نے میوالی گاوں باشندہ جانورپالنے والے شیرمحمد سے بات کی۔ محمد نے کہا "میرے پاس 30 گائے ہیں، ان کا دودھ بیچ کر گھرکا خرچ چلاتا ہوں"۔ ریاض الدین کہتے ہیں "یہاں ہرگاوں میں گائے پالنے والے ہیں۔ دو تین گائے توہزاروں خاندانوں کے پاس ہیں۔ نگینہ کے رمضان کے پاس تقریباً 200، جھمراوٹ کے مبارک کے پاس 105 گائے ہیں، 80 فیصد مسلم آبادی والے اس ضلع کے فیروزپورجھرکا قصبے کے پاس ایک گاوں ہے پاٹ خوری، اس میں تقریباً ایک ہزارگایوں کو پالا جارہا ہے۔

مویشی پروری حکمہ  کے مطابق میوات میں 45 سے 50 ہزارگائے ہیں۔ یہاں کے لوگوں کا بنیادی کام ہی کسانی اورجانورپالنا ہی ہے۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگ گایوں کی اسمگلنگ کے شک میں مارے جارہے ہیں جبکہ وزیراعظم نریندرمودی کئی بارگئو رکشکوں کو نصیحت دے چکے ہیں کہ گئوبھکت کے نام پرکسی کی جان لینا قابل قبول نہیں ہے۔

mob-2

کانگریس کے سینئر لیڈراورسابق وزیرآفتاب احمد کہتے ہیں "یہاں کے لوگ گایوں کے محافظ ہیں۔ وہ گئوکشی کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوتے ہیں۔ ہماری پارٹی اکبرکے مارے جانے کے حادثہ کی مذمت کرتی ہے۔

پاٹ خوری گاوں کے گائے پالنے والے ذاکرکہتے ہیں گائے تو ہمارے آباو اجداد بھی رکھتے آئے تھے۔ گایوں نے تو ہمیں دودھ دیا ہے، ہمارا پیٹ پالا ہے، انہیں ماتا اور دیوی کے طور پر ہم مانتے ہیں، یہ تو مٹھی بھر لوگ ہیں، جو اس کام میں ملوث ہیں، انہیں کی وجہ سے پورا میوات گئوکشی کے لئے بدنام ہورہا ہے۔

میوات ڈولیمپنٹ ایجنسی کے چیئرمین رہے مسلم راشٹریہ منچ کے شمالی ہندوستان کے انچارج خورشید رزاق کہتے ہیں "بھیڑ کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے، ہم ایسے واقعات کی مذمت کرتے ہیں، لکن مشکل سے 200 گایوں کے اسمگلر ہیں، انہیں شیلٹر بھی نہیں دینا چاہئے۔ کیونکہ ان کی وجہ سے 20 کروڑ مسلمان بدنام ہورہے ہیں۔

میوات میں تو گایوں کی اسمگلنگ کا سماجی بائیکاٹ کرنے کے لئے پنچایتیں بھی ہوئی ہیں، ان کا اثرکیوں نہیں ہے؟ اس سوال کے جواب میں رزاق کہتے ہیں "اگر گائے کا گوشت کھانے والے لوگ ہی پنچایت کریں گے تویہ کیسے ممکن ہے کہ گئوکشی رک جائے۔ اکبر کا قتل کیسے ہوا اوروہ گایوں کا پالنے والا تھا یا کچھ اور، یہ تو جانچ کا موضوع ہے، لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کا حق نہیں ہے۔

mob-3

جواب میں میوپنچایت کے سربراہ شیرمحمد کہتے ہیں "ہم نے میوات میں گایوں کی اسمگلنگ کے خلاف پنچایتیں کی ہیں۔ گایوں کی اسمگلنگ کا الورکی طرف آنا بند ہوگیا ہے۔ اکبرگایوں کا اسمگلر نہیں تھا"۔ الورمیں ہی میو مسلمان کیوں نشانے پر ہیں؟ ہم نے شیرمحمد سے اس کا جواب جاننا چاہا، اس پرانہوں نے کہا "راجستھان میں جلد ہی الیکشن ہونے والے ہیں، اس کچھ لوگ ہندو - مسلم کرنا چاہتے ہیں"۔

شیرمحمد کہتے ہیں "ہرمیو کے گھر میں گائے ہے، لیکن آج کے حالات میں نہ تو وہ بیچ سکتا ہے اور نہ ہی اسے دوا کرانے لے جاسکتا ہے۔ حکومت یہ ضابطہ بنا دے کہ مسلمان گائے نہیں پال سکتا ہے، لیکن وہ ایسا کرنہیں سکتی، اس لئے اچھا یہ ہوگا کہ ایسے واقعات پرروک لگائی جائے"۔

اوم پرکاش کی رپورٹ
First published: Jul 24, 2018 09:00 PM IST