உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Amarnath Yatra: ’امرناتھ یاترا بھائی چارے کی ایک عظیم مثال‘ لوگوں نے یوں کیا اپنی یاد کو تازہ

    یہاں کے لوگ ان واقعات کو یاد کررہے ہیں۔

    یہاں کے لوگ ان واقعات کو یاد کررہے ہیں۔

    مختصر راستوں اور اونچائی پر چراگاہیں اور جھیلیں گویا یاترا میں آنے والوں کا استقبال کرتی ہیں۔ لیکن ان کا قیمتی لمحہ وہ ہے جب مہاراجہ ہری سنگھ کی بیوی تارا دیوی نے انھیں 1947 میں غار کے مزار پر پیش کیے جانے والے چڑاوے کے لیے پھلوں سے بھری ایک تانبے کی ٹوکری دی تھی۔

    • Share this:
      کشمیر میں پہلگام کے قریب بٹ کوٹ گاؤں میں ملک قبیلے کے تقریباً سبھی بزرگ افراد امرناتھ یاترا کے ساتھ اپنی وابستگی کے ذاتی واقعات کو یاد کرتے ہیں، جس سے ان کی امرناتھ یاترا کی یادیں تازہ ہو جاتی ہیں۔ غلام نبی ملک نے 60 سال تک یاترا کی اور وہ تمام پہاڑوں اور غار تک جانے والے راستوں کو جانتے ہیں۔

      مختصر راستوں اور اونچائی پر چراگاہیں اور جھیلیں گویا یاترا میں آنے والوں کا استقبال کرتی ہیں۔ لیکن ان کا قیمتی لمحہ وہ ہے جب مہاراجہ ہری سنگھ کی بیوی تارا دیوی نے انھیں 1947 میں غار کے مزار پر پیش کیے جانے والے چڑاوے کے لیے پھلوں سے بھری ایک تانبے کی ٹوکری دی تھی۔

      ملک نے بٹ کوٹ گاؤں میں اپنے گھر پر ان باتوں کا ذکر کیا ہے، جو ننوان سے تقریباً 10 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ یہ پہلگام کا داخلی مقام ہے، جو یاتریوں کے لیے بیس کیمپ کے طور پر کام کرتا ہے۔ یہیں سے یاتری چندنواری، شیش ناگ اور پنچترنی کے ہولٹ کیمپوں کے ذریعے غار تک تین روزہ سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

      یہ بھی پڑھیں: Mukhtar Abbas Naqvi Resigns:نقوی کے استعفے کے بعد مودی کیبنٹ میں ایک مسلم وزیر نہیں

      منگل کے روز موسمی خرابی کی وجہ سے معطل رہنے کے بعد بدھ کو دوبارہ شری امرناتھ جی یاترا دوبارہ بحال ہوئی۔ پہلگام کے نن ون یاترا بیس کیمپ سے امرناتھ یاتریوں کا ایک اور قافلہ صبح سویرے مقدس گپھا میں پوتر شیو لنگم کے درشن کےلیے روانہ ہوا۔ ادھر بال تل کے یاترا بیس کیمپ سے بھی یاتریوں کا ایک اور جتھا کڑے سیکورٹی بندو بست میں مقدس گپھا کی بجانب روانہ ہوا، جبکہ ہیلی کاپٹر سروس بھی آج دن پر چالو رہی۔ اس طرح سے آج بھی ہزاروں یاتریوں نے مقدس گپھا میں برفانی لنگم کے درشن کیے۔

      مزید پڑھیں: Kuwaitمیں یرغمال بنایا گیا جوڑا گھر لوٹا، مقامی پولیس اور ہندوستانی سفارتخانے کو مدد کے لئے ادا کیا شکریہ
      ادھر جموں سے نکلنے والا ایک اور قافلے کے علاوہ جموں سرینگر قومی شاہراہ پر روکےگئے یاتریوں کو بھی کشمیر کی جانب بڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔ رام بن اور دیگر مقامات پر ٹرانزٹ کیمپوں میں رات بھر قیام کے بعد امرناتھ یاتری پہلگام کے نن ون بیس کیمپ اور بال تل پہنچ گئے۔ اسطرح سے ابھی تک 70 ہزار کے قریب یاتریوں نے مقدس گپھا میں برفانی شیو لنگم کے درشن کئے ہیں۔

      یاتریوں نے بیس کیمپوں کے علاوہ ہمالیائی گپھا تک کے پورے ٹریک پر سیکورٹی سمیت دیگر انتظامات کی سراہنا کی۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: