ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

عبادت گاہوں کو کھولنے کیلئے امیر جماعت اسلامی ہند نے لکھا دہلی کے وزیر اعلی کو خط

امیر جماعت نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں اس مکتوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ دہلی سے عبادت گاہوں کوعبادت گزاروں کے لئے کھولنے کی اپیل کی ہے اور ان سے گزارش کی ہے کہ وہ عبادت کرنے والوں کو عبادت گاہوں میں جانے کی اجازت دیں ۔

  • Share this:
عبادت گاہوں کو کھولنے کیلئے امیر جماعت اسلامی ہند نے لکھا دہلی کے وزیر اعلی کو خط
عبادت گاہوں کو کھولنے کیلئے امیر جماعت اسلامی ہند نے لکھا دہلی کے وزیر اعلی کو خط

نئی دلی : راجدھانی دہلی میں کورونا گائیڈ لائنس کے تحت بہت عبادت گاہوں کو لے کر ادھوری گائیڈ لائنس کے معاملہ میں گزشتہ دنوں تنازع ہوا تھا ، جس پر کئی لوگوں کی طرف سے ناراضگی کا اظہار بھی کیا گیا تھا ۔ اس دوران جماعت اسلامی ہند  نے دہلی کے وزیر اعلی کو ایک خط لکھا ہے ۔ جماعت اسلامی ہند کے امیر سید سعادت اللہ حسینی نے اروند کجریوال کوایک مکتوب بھیجا ہے ، جس میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی گزارش کی گئی ہے ۔


امیر جماعت نے میڈیا کو جاری اپنے ایک بیان میں اس مکتوب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے وزیر اعلیٰ دہلی سے  عبادت گاہوں کوعبادت گزاروں کے لئے کھولنے کی اپیل کی ہے اور ان سے گزارش کی ہے کہ وہ عبادت کرنے والوں کو عبادت گاہوں میں جانے کی اجازت دیں ۔ البتہ حالات کے پیش نظر سماجی فاصلے، حفظان صحت سے متعلق اصولوں پر عمل پیرا ہونے جیسے احتیاطی تدابیر کو لازمی قرار دیا جائے۔


انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں مذہبی مقامات پر چلنے والے ٹرسٹوں کے متعلقہ مذہبی سربراہاں، انتظامیہ اور بورڈ کے ساتھ باضابطہ طور پر مشاورت کی جائے اور اس کے بعد لازمی رہنمائیوں کے ساتھ اجازت دے دی جائے۔ جہاں تک مساجد کو کھولنے کا تعلق ہے تو ہم مسلم کمیونٹی سے اپیل کریں گے کہ وہ سماجی فاصلہ پروٹوکول ، ماسک پہننے وغیرہ کا اہتمام کریں ۔ یہ  امراض سے بچاؤ کے  لئے حفظ ماتقدم کے تحت مناسب ہیں ۔


غور طلب ہے کہ دہلی میں عبادت گاہوں کو کھولنے کی اجازت تو دے دی گئی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے فی الحال آپ لوگوں کو عبادت گاہوں کے اندر جا کرعبادت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ اس گائیڈ لائن پر کافی سوالات بھی اٹھائے گئے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دہلی کی جامع مسجد سے لے کر بہت ساری عبادت گاہیں اور مندر فی الحال عام لوگوں کے لیے بند ہیں ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jun 19, 2021 09:26 PM IST