ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

تنازعات کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تعلیمی میدان میں پیش قدمی جاری

مذکورہ ادارہ کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہندوستانی اداروں میں اس سال گزشتہ سال کی رینکنگ 19 کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 12 ویں رینک حاصل کی ہے اور عالمی سطح پر اس نے 601-800 بینڈ کے مابین اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اس مرتبہ بین الاقوامی اور ہندوستانی اداروں کی کل تعداد میں اضافے کے باوجود جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی کارکردگی میں بہتری لائی جو قابل ستائش ہے۔

  • Share this:
تنازعات کے درمیان جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تعلیمی میدان میں پیش قدمی جاری
جامعہ ملیہ اسلامیہ

نئی دہلی۔ شہریت قانون کے خلاف احتجاج اور حال ہی میں یو پی ایس سی میں مسلم نوجوانوں کے انتخاب کے سلسلے میں یونیورسٹی کو لے کر ہوئے تنازعات کے بیچ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی تعلیمی میدان میں پیش قدمی جاری ہے۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ ہندوستان کے ان نمایاں تعلیمی اداروں میں سے ایک ہے جس نے نہ صرف عالمی سطح پر اپنا مقام برقرار رکھا ہے بلکہ لندن کے ٹائمز ہائیر ایجوکیشن، ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2021 کی رپورٹ کے مطابق ہندوستانی اداروں میں اپنی پوزیشن کو  اس نے مزید بہتر بنایا ہے۔


مذکورہ ادارہ کی رپورٹ کے مطابق، جامعہ ملیہ اسلامیہ نے ہندوستانی اداروں میں اس سال گزشتہ سال کی رینکنگ 19 کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 12 ویں رینک حاصل کی ہے اور عالمی سطح پر اس نے 601-800 بینڈ کے مابین اپنی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ اس مرتبہ بین الاقوامی اور ہندوستانی اداروں کی کل تعداد میں اضافے کے باوجود جامعہ ملیہ اسلامیہ نے اپنی کارکردگی میں بہتری لائی جو قابل ستائش ہے۔


عالمی درجہ بندی میں گزشتہ سال کے 56 اداروں کی جگہ 63 ہندوستانی ادارے ہوئے شامل


گذشتہ سال 92 ممالک کے 1400 اداروں کے مقابلے میں 93 ممالک کے کل 1527 اداروں کا جائزہ لیا گیا تھا۔ مذکورہ ایجنسی کے ذریعہ پچھلے سال کی جانے والی 56 ہندوستانی اداروں کی تعداد امسال بڑھ کر 63 ہوئی تھی یعنی ہندوستانی اداروں کی تعداد میں اضافہ کے باوجود جامعہ کا نمایاں مقام رہا۔ اس موقع پر وائس چانسلر،جامعہ ملیہ اسلامیہ، پروفیسر نجمہ اختر نے قومی اور بین الاقوامی درجہ بندی میں یونیورسٹی کی مستقل بہتری اور نمایاں کارکردگی پر خوشی کا اظہار کیا ہے۔

پروفیسر اختر نے کہا کہ یہ کارکردگی جامعہ ملیہ اسلامیہ کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی معیارکی عکاسی کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اعلی معیار کی تحقیق ، اشاعتوں اور درس و تدریس میں بھی اس کے نمایاں مقام کا اندازہ ہوتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیورسٹی اپنی کارکردگی میں مزید بہتری لائے گی جس سے اس کی درجہ بندی میں بھی اضافہ ہوگا۔


یونیورسٹیوں کی کارکردگی کا اندازہ لگانے کے لئے ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ 2021 نے پانچ پیرامیٹرز قائم کئے تھے جن میں: درس (30 فیصد) ، تحقیق (30 فیصد) ، حوالہ جات (30 فیصد) ، آمدنی (2.5 فیصد) اور بین الاقوامی آؤٹ لک (7.5 فیصد) شامل ہیں۔

این آئی آر ایف میں بھی جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملا دسواں مقام

اس سے قبل جامعہ ملیہ اسلامیہ نے 751-800 بینڈ کی عالمی سطح کی عالمی درجہ بندی میں کوکواوریلی سایمنڈز (کیو ایس) میں اپنی پوزیشن برقرار رکھنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ یہ درجہ بندی گذشتہ جون کو جاری کی گئی تھی۔ وہیں وزارت تعلیم کی قومی ادارہ جاتی رینکنگ فریم ورک (این آئی آر ایف -2020) کے سروے میں بھی جامعہ کو نمایاں مقام ملا تھا ، اس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ملک کی دانش گاہوں میں 10 ویں نمبر پر رکھا گیا تھا۔
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Sep 03, 2020 10:52 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading