உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    گجرات فسادات پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بولے  Amit Shah، جن لوگوں نے الزام لگائے، وہ پی ایم مودی سے معافی مانگیں

    Youtube Video

    Union Home Minister Amit Shah interview: اتنی طویل قانونی لڑائی کے دوران گجرات کے اس وقت کے سی ایم اور اب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ایک لفظ بولے تمام الزامات کو برداشت کرنے کے بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ اپنی بات رکھی ہے۔

    • Share this:
      Union Home Minister Amit Shah  interview: مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے سال 2002 میں گجرات فسادات کے حوالے سے نیوز ایجنسی اے این آئی کو ایک تفصیلی انٹرویو دیا اور اس دوران تمام پہلوؤں پر کھل کر بات کی۔ اتنی طویل قانونی لڑائی کے دوران گجرات کے اس وقت کے سی ایم اور اب ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کے  ایک لفظ بولے تمام الزامات کو برداشت کرنے کے بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ اپنی بات رکھی ہے۔ انہوں نے کہا، 'میں نے مودی جی کو قریب سے اس درد کا سامنا کرتے دیکھا ہے۔ 18-19 سال کی لڑائی کے دوران وہ بھگوان شنکر کے زہر کی طرح گلے میں اتار کر برداشت کرکے تمام دکھوں سے لڑتے رہے پھر بھی ایک لفظ تک نہ بولے۔ یہ سب کچھ بہت مضبوط دماغ والا آدمی ہی کر سکتا ہے۔

      اے این آئی کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے انٹرویو کے دوران کہا، "18-19 سال کی لڑائی، ملک کے اتنے بڑے لیڈر نے ایک لفظ بھی بولے بغیر تمام دکھوں کو زہر کی طرح گلے میں اتار کر کر لڑتا رہا۔ اور آج جب آخرکار حقیقی سونے کی طرح باہر آیا ہے، تو فائدہ ہی ہوگا۔








      بتا دیں کہ 24 جون کو سپریم کورٹ نے 2002 کے گجرات فسادات کیس میں ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کر دیا تھا۔ اس میں انہوں نے اس وقت کے سی ایم نریندر مودی سمیت 64 لوگوں کو ایس آئی ٹی کی طرف سے دی گئی کلین چٹ کو چیلنج کیا تھا۔ ایس آئی ٹی کی کلوزر رپورٹ کے خلاف ذکیہ جعفری کی عرضی کو خارج کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے مجسٹریٹ کے حکم کو برقرار رکھا۔ عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سناتے ہوئے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ذکیہ جعفری کی اپیل میں دم نہیں ہے اور وہ خارج ہونے کے لائق ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: