ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

امت شاہ نے چندرابابو نائیڈو کو لکھا کھلا خط، این ڈی اے سے ناطہ توڑنے کو بتایا بدقسمت

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔

  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
امت شاہ نے چندرابابو نائیڈو کو لکھا کھلا خط، این ڈی اے سے ناطہ توڑنے کو بتایا بدقسمت
امت شاہ اور چندرابابو نائیڈو کی فائل فوٹو۔

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر امت شاہ نے آندھرا پردیش کے وزیر اعلی چندرابابو نائیڈو کو ایک کھلا خط لکھا ہے۔ اس میں انہوں نے این ڈی اے سے ناطہ توڑنے کے نائیڈو کے فیصلے کو 'بدقسمت اور’ یک طرفہ‘ قرار دیا ہے۔


تیلگودیشم پارٹی (ٹی ڈی پی) کی طرف سے ناطہ توڑنے کے تقریباً ہفتے بھر بعد امت شاہ نے 23 مارچ کو لکھے اس خط میں کہا کہ یہ فیصلہ ترقیاتی کاموں کے تئیں فکرمندیوں کے بجائے صرف اور صرف سیاسی نفع۔ نقصان کے لئے اٹھایا گیا قدم لگتا ہے۔


امت شاہ نے کہا کہ آندھرا پردیش کی ترقی کو لے کر مودی حکومت پابند عہد ہے اور اس پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا۔ وہیں این ڈی اے سے الگ ہونے کے نائیڈو کے فیصلے کو بدقسمت قرار دیتے ہوئے شاہ نے خط میں کہا کہ یہ فیصلہ مکمل طور پر سیاست سے حوصلہ افزا ہے اور اس میں ریاست کی ترقی کو درکنار کیا گیا ہے۔ شاہ نے لکھا کہ بی جے پی ہمیشہ ترقی اور کام کرنے کی سیاست میں یقین رکھتی ہے اور یہی ہماری حوصلہ افزائی کا ذریعہ ہے۔


شاہ نے لکھا ہے کہ آندھرا پردیش کی تقسیم سے لے کر آج تک بی جے پی نے ہمیشہ آندھرا پردیش کے عوام کی آواز کو اٹھایا ہے اور لوگوں کے مفادات کے لئے کام کیا ہے۔ ہم تیلگو لوگوں اور تیلگو ریاست کے مفادات کے بارے میں مسلسل سوچتے ہیں۔ کانگریس نے ریاست کی تقسیم میں لوگوں کے مفادات کی پرواہ نہیں کی، جس کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کانگریس نے تقسیم کے دوران لوگوں کی حساسیت کے بارے میں بالکل بھی پرواہ نہیں کی۔


دراصل، ٹی ڈی پی نے مرکزی حکومت پر 2014 میں آندھراپردیش کی تقسیم کے وقت اسے خصوصی ریاست کا درجہ دئیے جانے سمیت کئی دیگر وعدے پورے نہیں کرنے کا الزام لگاتے ہوئے بی جے پی کی زیر قیادت این ڈی اے اتحاد سے اپنی حمایت واپس لے لی ہے۔ ٹی ڈی پی نے اس کے بعد مودی حکومت کے خلاف لوک سبھا میں عدم اعتماد کی تحریک کا نوٹس بھی دیا تھا۔ حالانکہ، ایوان زیریں میں جاری ہنگامہ کی وجہ سے اس پر بحث نہیں ہو سکی۔

First published: Mar 24, 2018 12:54 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading