ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

ان کشمیری نوجوانوں پر بھی ہو سکتی ہے کارروائی جو اے ایم یو کے طلبہ نہیں

اتوار کو علی گڑھ پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اے ایم یو انتظامیہ کے ساتھ جائے حادثہ کینیڈی ہال کے پاس جا کر جانچ کی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اکھٹا کی گئی

  • Share this:
ان کشمیری نوجوانوں پر بھی ہو سکتی ہے کارروائی جو اے ایم یو کے طلبہ نہیں
علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی میں طلبہ احتجاج کرتے ہوئے: فائل فوٹو۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) معاملہ میں کچھ اور کشمیری نوجوانوں پر غداری کا مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ دو طالب علموں پر پہلے سے ہی غداری کا مقدمہ درج ہو چکا ہے۔ دو طلباء کو معطل بھی کردیا گیا ہے۔ ذرائع کی مانیں تو جن 7 طالب علموں کو نوٹس بھیجا گیا تھا انہیں طلبہ پر علی گڑھ کی انتظامیہ مقدمہ درج کر سکتی ہے۔ طلبہ یونین کے سابق نائب صدر کا الزام ہے کہ کچھ ایسے نوجوانوں کے نام پر بھی نوٹس جاری کیا گیا ہے جو اب اے ایم یو کے طلبہ نہیں ہیں۔


غور طلب ہے کہ چند دنوں پہلے کشمیر میں فوج کے ہاتھوں دہشت گرد منان وانی مارا گیا تھا۔ موت کے بعد اے ایم یو میں تعزیتی پروگرام منعقد کرنے اور ملک مخالف نعرے لگانے کے الزام یونیورسیٹی میں پڑھ رہے کچھ کشمیری طالب علموں پر لگے تھے۔


اس کے بعد فوری طور پر قدم اٹھاتے ہوئے یونیورسیٹی انتظامیہ نے کشمیری طلباء کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اتوار کو علی گڑھ پولیس کی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) نے اے ایم یو انتظامیہ کے ساتھ جائے حادثہ کینیڈی ہال کے پاس جا کر جانچ کی۔ سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج اکھٹا کی گئی ۔ کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کی گئی۔


ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی تحقیقات کی بنیاد پر پولیس ان 7 طالب علموں کے خلاف بھی مقدمہ درج کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اے ایم یو انتظامیہ نے اس واقعے کے بارے میں ایک نوٹس بھیجا تھا۔ پولیس یہ کارروائی کر سکتی ہے۔ اس خبر نے اے ایم یو کے حالات کو مزید گرم کر دیا ہے۔

کشمیر کے 12 سو طلباء یونیورسٹی چھوڑ دیں گے

اے ایم یو اور علی گڑھ انتظامیہ کی کارروائی کو اے ایم یو میں پڑھ رہے کشمیر کے طلبا نے پریشان کرنے والی کارروائی بتایا ہے۔ اس سلسلے میں ایک خط بھی وائرل ہو رہا ہے۔ ایسا دعوی کیا جا رہا ہے کہ اس خط کو کشمیری طلبا نے جاری کیا ہے۔

خط میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر کشمیری طالب علموں پر لگے غداری کے الزام، اے ایم یو سے ان کی معطلی اور نوٹس کی کارروائی ختم نہیں کی گئی تو وہ 17 اکتوبر کو سرسید ڈے والے دن اے ایم یو چھوڑ کر کشمیر چلے جائیں گے۔ اپنی ڈگری بھی واپس کر دیں گے۔ کشمیر کے 12 سو طلبہ اے ایم یو میں پڑھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: منان بشیر وانی کے والد بولے ۔ " افضل کی پھانسی کے بعد بھٹک گیا تھا بیٹا

تاہم، اتوار کی شام کشمیر کے بعض طالب علموں نے ذرائع ابلاغ کو دئیے بیان میں کہا ہے کہ اے ایم یو چھوڑنے کا فیصلہ کچھ طالب علموں کا ہوسکتا ہے۔ کشمیر کے تمام طلباء کا یہ فیصلہ نہیں ہے۔ ہم سے اس بارے میں کوئی مشورہ نہیں لیا گیا۔

اس بارے میں اے ایم یو کے رجسٹرار عبدالحامد کا کہنا ہے، "اے ایم یو چھوڑنے کی بات کہنے والے طلبہ کو سمجھایا گیا ہے۔ مقدمہ درج کرنے کی کارروائی پولیس کر رہی ہے۔ کسی کے ساتھ بھی ناانصافی نہیں ہونے دی جائے گی۔ لیکن کیمپس میں کسی بھی طرح کی غلط سرگرمی بھی نہیں ہونے دی جائے گی‘‘۔

ناصر حسین کی رپورٹ
First published: Oct 15, 2018 01:32 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading