உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کشن گنج اے ایم یوسینٹر کی پارلیمنٹ میں گونج ، 136کروڑ میں سے جاری ہوئے محض 10کروڑ

    رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے یہ معاملہ اٹھایا ۔ تصویر : ٹویٹر ۔ @DrMdJawaid1

    رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے ضابطہ 377 کے تحت کشن گنج اے ایم یو کیمپس کے لئے آواز اٹھائی ۔ انھوں نے ضابطہ 377 کی کاپی شیئر کی ، جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ سال 2013 میں عظیم اتحاد کے برسر اقتدار ہونے کے وقت میں کیمپس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ لیکن اب تک صرف دس کروڑ روپے ہی جاری کئے گئے ہیں۔

    • Share this:
    نئی دہلی : بہار کے کشن گنج سے رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے کشن گنج اے ایم یوکیمپس کا معاملہ لوک سبھا میں اٹھایا ۔ رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر محمد جاوید نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ انھوں نے ضابطہ 377 کے تحت کشن گنج اے ایم یو کیمپس کے لئے آواز اٹھائی ۔ انھوں نے ضابطہ 377 کی کاپی شیئر کی ، جس میں انھوں نے لکھا تھا کہ سال 2013 میں عظیم اتحاد کے برسر اقتدار ہونے کے وقت میں کیمپس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا تھا ۔ لیکن اب تک صرف دس کروڑ روپے ہی جاری کئے گئے ہیں۔

    ڈاکٹر محمد جاوید نے لکھا کہ سیمانچل کے علاقہ میں تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے یہ ہدف رکھا گیا تھا کہ کشن گنج اور قرب وجوار کے اضلاع میں تعلیم اور خاص طورپر اعلی تعلیم کی حوصلہ افزائی ہوگی اور تعلیمی پسماندگی دور کرنے میں مددملے گی اور اس کے لئے سال 2014 میں عظیم اتحاد کی حکومت نے 136.82 کروڑ روپے بارہویں پلان کے تحت منظور کئے تھے ، جس سے کشن گنج سینٹر کا قیام کیا جاسکے ۔ تاہم محض 10 کروڑ روپے ہی جاری کئے گئے ۔


    اس کے علاوہ ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تقرری میں دیری کی وجہ سے تعلیمی سرگرمیاں شروع تک نہیں ہوسکیں ہیں ۔ اسلئے میری درخواست ہے کہ اساتذہ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کی تقرری میں دیری نہ کی جائے ۔ِ

    غورطلب ہے کہ یوپی اے حکومت نے 2014 عام انتخابات سے قبل اے ایم یو کے ملک میں کئی مراکز شروع کرنے کو منظوری دی تھی ، جن میں کیرالہ کا ملا پورم ، بنگال کا مرشد آباد اور بہار کا کشن گنج سینٹر قایم کیا جانا تھا ، لیکن صرف کیرالہ کا ملا پورم سینٹر ہی کچھ حد تک قائم ہوسکا ہے ۔ جبکہ مرشد آباد اور کشن گنج کا اے ایم یو سینٹر ابھی تک زیر التوا ہے ۔
    Published by:Imtiyaz Saqibe
    First published: