ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اقلیتوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی فراہمی کے ذریعہ ہی ملک کو خوشحال بنایا جاسکتا : امیوبا

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن( لکھنئو ) کی جانب سے ایک بار پھر اقلیتوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی بحالی کے لیے آواز بلند کی گئی ہے ۔

  • Share this:
اقلیتوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی فراہمی کے ذریعہ ہی ملک کو خوشحال بنایا جاسکتا : امیوبا
اقلیتوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی فراہمی کے ذریعہ ہی ملک کو خوشحال بنایا جاسکتا : امیوبا

لکھنئو : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن( لکھنئو ) کی جانب سے ایک بار پھر اقلیتوں کے آئینی دستوری اور جمہوری حقوق کی بحالی کے  لیے آواز بلند کی گئی ہے ۔ اقلیتوں کے حقوق اور حکومت کی ذمہ داریاں کے عنوان سے منعقد ایک خصوصی میٹنگ کے بعد ایسوسی ایشن کے صدر معروف معالج پروفیسر شکیل قدوائی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے تعلق سے حکومت کے نظریات اور ان کی فلاح کے باب میں کیے جانے والے عوامل افسوسناک ہیں ۔ گزشتہ آٹھ سال کے دوران ملت جن مسائل  و مظالم سے دو چار رہی ہے ، اس نے اقلیت کو اس احساس میں مبتلا کردیا ہے کہ اب مسلم طبقے کے لیے صرف ذہن و دل ہی نہیں بلکہ زمینیں بھی تنگ ہو گئی ہیں ۔ جن مذہبی اور منفی بنیادوں ہر مسلمانوں کو ظلم و تشدد کا نشانا بنایا جاتا ہے ، ان پر قانونی کارروائی کی جاتی ہے ، ان سے موجودہ حکومت کے افکار و نظریات کا بخوبی اندازہ ہوجاتا ہے ۔ ہر محاذ پر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت انہیں ناکام و پسپا کرنے ، ان کی حوصلہ شکنی کرکے انہیں احساس کمتری میں مبتلا کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور بد نصیبی یہ ہے کہ یہ کوششیں کامیاب ہوکر مذہبی تقسیم کے لیے ماحول سازگار کررہی ہیں ۔


اولڈ بوائز ایسوسی ایشن کے سینئر اراکین مانتے ہیں کہ مسلمانوں کی مستحکم قیادت نہ ہونے کے سبب یہ دن دیکھنے پڑ رہے ہیں ۔ غریبی اور تعلیمی پسماندگی کے ساتھ ساتھ مناسب سیاسی قیادت کے فقدان نے اس  طبقہ کے لوگوں کے لیے ترقی کے تمام دروازے بند کردئے ہیں ۔ ارباب اقتدار کو سوچنا چاہئے کہ جس ملک میں بیس کروڑ  سے زیادہ لوگ پریشان و بدحال ہوں ، خطِّ افلاس سے نیچے زندگی بسر کررہے ہوں ، اس کو ایک خوشحال ملک کیسے کہا جاسکتا ہے ۔ حکومت کو سوچنا پڑے گا کہ ظلم و تشدد کے ذریعہ اتنے لوگوں کو زد وکوب تو کیا جاسکتا ہے ، لیکن انہیں ملک سے باہر نہیں کیا جاسکتا ۔ لہٰذا بہتر طریقہ یہی ہے کہ ملک کی سبھی اقلیتوں کے ساتھ منصفانہ طریقہ کار اپنائے جائیں ، ان کے حقوق کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے ، تعلیم اور روزگار کی فراہمی کے ذریعے انہیں ملک کی مین اسٹریم میں شامل کیا جائے ، یہ کسی بھی جمہوریت کو بحال رکھنے کا ایک طریقہ بھی ہے اور ملک کو خوشحال بنانے کا ایک ذریعہ بھی ۔


“جمن میں اختلاطِ رنگ و بو سے بات بنتی ہے ،


تمہی تم ہو تو کیا تم ہو ہم ہی ہم ہیں تو کیا ہم ہیں “۔۔۔

افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے ساتھ آزادی کے حصول اور ملک کی تقسیم کے بعد سے ہی نا انصافی ہو رہی ہے اور عہدِ حاظر میں تو نا انصافیوں اور  ظلم و زیادتیوں کے سارے گراف پیچھے رہ گئے ہیں ۔ امیوبا اس ضمن میں خصوصی تحریک چلانے کی خواہاں ہے ، جس کے تحت لوگوں کو اپنے حقوق کی حصولیابی کے لئے بیدار بھی کیا جائے گا اور حکومتوں سے مطالبات بھی کئے جائیں گے ۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن لکھنئو نے بھی ایوان سرسید کی تعمیر سمیت ابھی وہ کام انجام نہیں دئے ہیں ، جن کا خاکہ اور منصوبہ ابتدائی میٹنگ میں بنایا گیا تھا ۔
Published by: Imtiyaz Saqibe
First published: Jul 29, 2021 08:12 PM IST