ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو اقلیتی کردار کی جنگ لڑنے کیلئے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کا رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی نے اولڈ بوائز ایسوسی ایشنزکی دیگر شاخوں کے ساتھ مل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکی لڑائی مضبوط طریقے سے لڑنے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ رات ایک میٹنگ میں کیا گیا۔

  • News18
  • Last Updated: Jan 29, 2016 07:19 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اے ایم یو اقلیتی کردار کی جنگ لڑنے کیلئے اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کا رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ
نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی نے اولڈ بوائز ایسوسی ایشنزکی دیگر شاخوں کے ساتھ مل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکی لڑائی مضبوط طریقے سے لڑنے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ رات ایک میٹنگ میں کیا گیا۔

نئی دہلی: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی نے اولڈ بوائز ایسوسی ایشنزکی دیگر شاخوں کے ساتھ مل کر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردارکی لڑائی مضبوط طریقے سے لڑنے کے لئے ایک رابطہ کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ گزشتہ رات ایک میٹنگ میں کیا گیا۔


یہ بات علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد حمد نے یو این آئی کو بتائی۔ انہوں نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا اقلیتی کردار کا معاملہ مسلمانوں کے وقار کا حساس ترین مسئلہ ہے اور مسلمان کسی قیمت پر اس سے سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ تاہم انہوں نے کہاکہ میٹنگ یہ فیصلہ کیاگیا ہے کہ اس مسئلہ کو قانونی اور سیاسی طریقے سے لڑا جائے نہ کہ سڑکوں پر اتر کر وہ غلطی نہ دہرائی جائے ،جو بابری مسجد کے معاملے میں ہوئی تھی۔


مسٹر ارشاد نے یہ بھی کہا کہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر جنرل ضمیر الدین شاہ سے ملاقات کرکے مقدمہ کے سلسلے میں ان سے تعاون کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں رابطہ کمیٹی کے تحت 15وکلاء پر مشتمل قانونی صلاح کار کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس میں زیڈ کے فیضان، ایڈووکیٹ شیخ عمران عالم صدر اے ایم یو لائرز فورم، رعناپروین صدیقی، بہار برقی ایڈووکیٹ، نوشاد احمد صدیقیاور فیروز خاں غازی وغیرہ شامل ہیں۔


انہوں نے کہا کہ میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیاگیا ہے کہ رابطہ کمیٹی کے اراکین اور ذمہ داران مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ سے ملاقات کرکے ان سے مدد کی درخواست کریں گے تاکہ 1981کے پارلیمنٹ کے ایکٹ کو بحال رکھا جائے۔ جس میں مسلم یونیورسٹی کے اقلیتی کردار اور مسلمانوں کی تعلیمی اور ثقافتی ترقی کی بات کہی گئی ہے۔


مسٹر ارشاد نے بتایا کہ رابطہ کمیٹی جو 38اراکین پر مشتمل ہے اور جس کے کنوینر بصیر احمد خاں سابق پرووائس چانسلر اندرا گاندھی نیشنل اوپن یونیورسٹی ہیں جب کہ معاون کنوینر مجھے (ارشاد احمدکو) بنایا گیا ہے۔


اس کمیٹی کے اہم اراکین میں محمد ادیب سابق رکن راجیہ سبھا، عرفان اللہ خاں ، سابق صدر اسٹوڈینٹ یونین اے ایم یو، سلامت اللہ مرکزی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن، خواجہ شاہد سابق پرووائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی، پروفیسر اقبال سابق وائس چانسلر ہمدرد یونیورسٹی، پروفیسر لقمان سابق وائس چانسلر مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی، صفدر حسین خاں سابق صدر اے ایم یو اولڈ ایسوسی ایشن دہلی، پروفیسر بھیم سنگھ، مدثر حیات جنرل سکریٹری اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی، انجنئیر سکندر حیات وغیرہ شامل ہیں۔


انہوں نے بتایا کہ اسی طرح اپنی بات پوری قوت سے رکھنے کے لئے میڈیا سیل کی تشکیل کی گئی ہے جن میں پشپندر، محبوب احمد، سیدین زیدی اور عارفہ خانم شامل ہیں۔ اسی کے ساتھ مسٹر ارشاد احمد نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے بہی خواہوں سے اس سلسلے میں آگے آنے کی درخواست کی وہیں یہ بھی کہا کہ اس لڑائی کو نہایت حکمت عملی قانونی اور دانشورانہ طریقے سے لڑیں ۔تاکہ اس کے بڑے اثرات سے بچا جاسکے۔

First published: Jan 29, 2016 07:19 PM IST