ہوم » نیوز » No Category

روہت ویمولا کو خودکشی پر مجبور کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے: اے ایم یو اولڈ بوائز

نئی دہلی۔ حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے ذہین ریسرچ اسکالرروہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد احمد اور اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں آخر کب تک دلتوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

  • UNI
  • Last Updated: Jan 21, 2016 04:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
روہت ویمولا کو خودکشی پر مجبور کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے: اے ایم یو اولڈ بوائز
نئی دہلی۔ حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے ذہین ریسرچ اسکالرروہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد احمد اور اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں آخر کب تک دلتوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہے گا۔

نئی دہلی۔ حیدرآباد مرکزی یونیورسٹی کے ذہین ریسرچ اسکالرروہت ویمولا کو خود کشی پر مجبور کرنے کے لئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور مرکزی وزیر کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائز ایسوسی ایشن دہلی کے صدر ارشاد احمد اور اے ایم یو الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ آزاد ہندوستان میں آخر کب تک دلتوں کے ساتھ مظالم کا سلسلہ جاری رہے گا۔ مسٹر احمد نے کہا کہ دلتوں کے ساتھ آزادی کے بعد بھی مظالم کا سلسلہ جاری ہے اور بہت سے علاقے میں اس وقت بھی دلتوں کو اونچی ذات کے لوگوں کے سامنے بیٹھنے کا حق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارے نظام کی خامیاں ہیں کہ ہم نے اب تک انہیں مساوی درجہ نہیں دیا ہے جب کہ ہندوستان کا آئین سب کو مساوی درجہ دیتا ہے اور سب کے ساتھ یکساں سلوک کی تلقین کرتا ہے۔


انہوں نے وزیر اعظم کو مکتوب خط میں سوال اٹھایا کہ آخری ایک وزیر کی شکایت پر حیدرآباد کی مرکزی یونیورسٹی کو چھ ریمائنڈر کیسے بھیجے گئے جس کی وجہ سے وائس چانسلر نے روہت ویمولا کے ساتھ پانچ دیگر دلت طلبا کو معطل کردیا تھا۔انہوں نے کہاکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب کسی دلت طالب علم کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ہے۔ اس یونیورسٹی میں اب تک سات دلت طلبا خودکشی کرچکے ہیں۔ اس سے انتظامیہ کا دلتوں کے تئیں سلوک کا پتہ چلتا ہے۔


وہیں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی متحدہ عرب امارات کے صدر سید محمد قطب الرحمان نے کہا کہ روہت ویمولا کی خودکشی نے مرکزی حکومت اور یونیورسٹی انتظامیہ کا دلت مخالف چہرہ سامنے لادیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ روہت ویمولا کو مسلسل پریشان کیا جارہا تھا جس کی وجہ سے انہیں خودکشی پر مجبور ہونا پڑا۔ اگر فروغ انسانی وسائل کی وزارت کا ریمائنڈر اور ایک مرکزی وزیرکا دباؤ نہ ہوتا تو ویمولا آج زندہ ہوتا۔ مسٹر رحمان نے کہا کہ ویمولا کا قصور یہی تھا کہ وہ ہر ظلم کے خلاف لڑتا تھا خواہ اس کا  شکار کوئی بھی ہوا ہو۔ انہوں نے مظفر نگر فسادات پر اگست 2015 میں ایک دستاویزی فلم ’’مظفرنگر باقی ہے‘‘کی نمائش کی تھی جس کی وجہ سے سنگھ پریوار اور اس سے وابستہ تنظیم ویمولا کو پریشان کر رہی تھی اور ان لوگوں کی نظروں میں کانٹے جیسا کھٹک رہا تھا۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ دلتوں اور مسلمانوں پر مظالم بند کئے جائیں اور اس کے ذمہ دار افراد کے خلاف سخت کارروئی کی جائے۔


First published: Jan 21, 2016 04:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading