ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے یو ایم کے اقلیتی کردار پرگھٹیا سیاست نہ کریں لیڈران: طلبہ یونین صدر مشکور احمد نے زبردست جواب

اے ایم یو کا نام ایک بار پھر دلت ریزرویشن کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ طلبہ یونین صدر مشکور احمد عثمانی نے مخالفین کو سخت جواب دیا ہے۔

  • Share this:
اے یو ایم کے اقلیتی کردار پرگھٹیا سیاست نہ کریں لیڈران: طلبہ یونین صدر مشکور احمد نے زبردست جواب
اے ایم یو کا نام ایک بار پھر دلت ریزرویشن کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ طلبہ یونین صدر مشکور احمد عثمانی نے مخالفین کو سخت جواب دیا ہے۔

علی گڑھ: علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کا نام ایک بار پھر دلت ریزرویشن کو لے کر سرخیوں میں ہے۔ دلت ریزرویشن کے موضوع کو لے کر نیشنل شیڈول کاسٹ کمیشن کے چیئرمین رام شنکر کٹھیریا نے کہا  ہے کہ اے ایم یو میں ریزرویشن نافذ نہیں کیا گیا تو گرانٹ روکنے کے لئے وزارت کوخط لکھیں گے۔


ان کے اس بیان پر زبردست پلٹ وار کرتے ہوئے اے ایم یو طلبا یونین کے صدر مشکور احمد عثمانی نے کہا ہے کہ کٹھیریا نے 6 مہینے پہلے یونیورسٹی کے ریزرویشن پالیسی کو لے کر ایک خط لکھا تھا اوراس وقت  اس خط کا جو انہیں جواب ملا تھا، اس سے وہ مطمئن تھے اور آج پھر سے اس موضوع کو اس طرح سے اٹھایا جارہا ہے، جو ٹھیک بات نہیں ہے۔


انہوں نے کٹھیریا سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی طرح کی نیچی حرکت کا شکار نہ ہوں۔ علی گڑھ مسلم یونیوسٹی ایک اقلیتی ادارہ ہے۔ ایکٹ آف پارلیمنٹ 1920 سے منظور ہے اور اس کے بعد ایکٹ آف پارلیمنٹ 1981 سے، آرٹیکل 30، کلاوز ٹو، آرٹیکل ٹو، وغیرہ اس بات کی اجازت دیتے ہیں کہ ہندوستان کے اندر اقلیتی ادارے قائم کئے جاسکتے ہیں۔


واضح رہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں ذات کی بنیاد پر ریزرویشن نہیں دی جاسکتی ہے، اس کی ایک بڑی اور خاص وجہ یہ ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ کا درجہ ملا ہوا ہے۔ بے شک یہ بات الگ ہے کہ اے ایم یو کو اقلیتی ادارہ کا درجہ دینے والا حکم تنازعات  کے بعد سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔

عدالت نے بھی مرکزی حکومت اور اے ایم یو انتظامیہ کو سننے کے لئے اے ایم یو میں ابھی کی صورتحال کو برقرار رکھا ہے، اس لئے جب تک عدالت کا کوئی فیصلہ نہیں آجاتا ہے تب تک اے ایم یو میں کسی بھی طرح کے نئے احکامات کو نہ تو نافذ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی کسی پرانے فیصلے کو تبدیل کیا جاسکتا ہے۔

سپریم کورٹ نے نہیں دیا ہے اقلیتی کردار : کٹھیریا

نیشنل شیڈول کاسٹ کمیشن کے چیئرمین اورآگرہ کے ممبرپارلیمنٹ رام شنکر کٹھیریا کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ میں کبھی نہرو سے لے کراندرا گاندھی تک کسی نے اے ایم یو کو اقلیتی کردار کا درجہ نہیں دیا ہے۔ وہیں سپریم کورٹ نے بھی 1986 میں دیئے فیصلے میں کہا ہے کہ یہ اقلیتی ادارہ نہیں ہے۔ یہاں جان بوجھ کر درج فہرست ذات کے طلبا کو ریزرویشن سے محروم کیا جارہا ہے۔ کٹھیریا نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کہتا ہے کہ اے ایم یو اقلیتی ادارہ ہے تو وہ اپنے مطالبات واپس لے لیں گے۔

 

 
First published: Jul 03, 2018 10:11 PM IST