ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اے ایم یو کے شیخ الجامعہ نے اساتذہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا "اے ایم یوکودشوارکن مراحل کا سامنا"۔

پروفیسرطارق منصورنے اساتذہ کو ان کی ترجیحات یاد دلاتے ہوئے یونیورسٹی کے اقلیتی کرداراورایس سی ایس ٹی ریزرویشن کے مسئلہ پراساتذہ کا تعاون مانگا۔

  • Share this:
اے ایم یو کے شیخ الجامعہ نے اساتذہ کو خطاب کرتے ہوئے کہا
پروفیسرطارق منصورنے اساتذہ کو ان کی ترجیحات یاد دلاتے ہوئے یونیورسٹی کے اقلیتی کرداراورایس سی ایس ٹی ریزرویشن کے مسئلہ پراساتذہ کا تعاون مانگا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں نئے سیشن کی شروعات کے بعد آج شیخ الجامعہ پروفیسر طارق منصورنے اساتذہ برادری سے خطاب کرتے ہوئے جہاں ریسرچ کے معیارکو بلند کرنے اورترقی پرزوردیا وہیں یہ بھی تسلیم کیا کہ اے ایم یو دشوارکن مرحلے  سے گذررہا ہے۔


انھوں نے یونیورسٹی کے اقلیتی کردار اورایس سی/ ایس ٹی ریزرویشن کے مسئلہ کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے ٹیچرس کمیونٹی کا تعاون بھی مانگا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے آج کنیڈی ہال میں اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے اے ایم یو کارکردگی سے واقف کرایا اور اساتذہ کو ان کی ترجیحات بھی یاد دلائیں۔


پروفیسر طارق منصور نے ساتھ ہی ساتھ کہا کہ ان دنوں دواہم مسائل اے ایم کے سامنے کھڑے ہیں، جس میں ایک اقلیتی کردارکا مسئلہ ہے اور دوسرا ایس سی/ایس ٹی ریزرویشن ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اے ایم یو میں آج تک کسی کو بھی مذہب کی بنیاد پرکوئی ریزرویشن نہیں دیا گیا ہے، ہم دونوں ہی مسئلوں پر سپریم کورٹ میں لڑرہے ہیں۔ اس معاملے میں آگے کی لڑائی کے لئے ہمیں ٹیچرس کمیونٹی کا بھرپورتعاون چاہیے۔

وائس چانسلر کے اساتذہ سے خطاب پرافسررابطہ عامہ عمرسلیم پیرزادہ نے کہا کہ آج کل جس طرح کا ماحول ہے، اس میں ہمارے اقلیتی کرداراورریزویشن کو لے کراکثرمسائل کھڑے کئے جارہے ہیں۔ آج ہم نے اسی پرسنجیدگی سےغوروخوض کیا ہے۔ اے ایم یو کمیونٹی ان دونوں ہی مسئلوں پرمضبوطی کے ساتھ کھڑی ہے۔ ہماری کوشش ہے کہ ہم اے ایم یو کے سیکولر کردارسے پوری دنیا کو مزید واقف کرائیں۔

محمد کامران کی رپورٹ
First published: Sep 01, 2018 09:06 PM IST