உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    اسدالدین اویسی سمیت کئی افراد کے خلاف وبائی ایکٹ کے تحت کیس درج، مذہبی جذبات بھڑکانے کابھی اویسی پر الزام

    Youtube Video

    الزام ہے کہ اویسی نے وبائی ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اورانتظامیہ کی دی گئی اجازت کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سٹی چوکی انچارج نے تحریر مذہبی جنون بھڑکانے کے لیے بھی دی ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:

      یوپی کے بارہ بنکی میں ایم آئی ایم صدراسدالدین اویسی سمیت کئی دیگر افراد کے خلاف چوکی انچارج کی تحریر پرشہر کوتوالی میں کیس درج کیاگیاہے۔ دفعہ ایک سوترپن اے سمیت وبائی ایکٹ تین کے تحت کیس درج کیاگیاہے۔ الزام ہے کہ اویسی نے وبائی ایکٹ کی خلاف ورزی کی ہے اورانتظامیہ کی دی گئی اجازت کی بھی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ سٹی چوکی انچارج نے تحریر مذہبی جنون بھڑکانے کے لیے بھی دی ہے۔


      واضح ہو کہ یوپی میں اسمبلی انتخابات کے حوالے سے ہلچل تیز ہوگئی ہے۔ ایم آئی ایم صدر اسدالدین اویسی یوپی کے تین روزہ دورے پر تھے۔ اس حوالے سے اسدالدین اویسی نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کی جس میں انہوں نے بی جے پی ۔ کانگریس، ایس پی اور بی ایس پی پر بھی نشانہ سادھا ۔ وہیں اب ان پر الزام ہے کہ فرقہ وارانہ ماحول بگاڑنے کی کوشش کی ہے۔

      آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (AIMIM) کے صدر اسد الدین اویسی Asaduddin Owaisi  نے کہا ہے کہ دلت بھی ہجومی تشدد کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کمزور کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ حیدرآباد کے رکن اسمبلی نے کہا کہ ملزم کے لیے ضمانت حاصل کرنا بہت آسان ہے۔ اے آئی ایم آئی ایم لیڈر  نے کہا کہ 2014 کے بعد سے ملک میں مسلمان نشانے پر ہیں۔ اتر پردیش کے بارابنکی میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست میں 37 مسلمانوں کا انکاؤنٹر ہوا۔ لکھنؤ میں جب وویک تیواری کو گولی ماری گئی تو پولیس کو معطل کردیا گیا۔ اویسی نے بارابنکی ریلی میں بی ایس پی ، ایس پی ، بی جے پی اور کانگریس سب کو نشانہ بنایا۔

      قابل ذکر ہے کہ اگلے سال اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر  اسد الدین اویسی Asaduddin Owaisi  منگل کو ریاست کے تین روزہ دورے پر لکھنؤ پہنچے تھے۔ منگل کو انہوں نے لکھنؤ میں پریس کانفرنس کے بعد ایودھیا کے رودولی قصبے میں عوام سے خطاب کرتے ہوئے  اپنی مہم کا آغاز کیا۔ اسی وقت  بدھ کو اویسی کا ضلع سلطان پور میں انتخابی اجلاس تھا اور جمعرات کو وہ بارابانکی میں ایک اجلاس سے خطاب کرنے والے تھے۔ اویسی نے پہلے ہی 2022 میں ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات میں 100 نشستیں لڑنے کا اعلان کیا ہے۔

      2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے سلطان پور سے کیسے جیتا؟

      اس سے پہلے سلطان پور میں ایک اجلاس میں اسد الدین  اویسی نے کہا، 'کہا جاتا ہے کہ اگر اویسی لڑیں گے تو وہ ووٹ کاٹ دیں گے۔' انہوں نے سوال کیا ، 'اگر آپ سب نے اکھلیش یادو کو سلطان پور میں ایک جھولی بھر کے ووٹ دیا تو سوریہ (سوریہ بھان سنگھ بی جے پی ایم ایل اے) کیسے جیتے؟ 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے سلطان پور سے کس طرح کامیابی حاصل کی  تب اویسی تو الیکشن نہیں لڑ رہے تھا۔ کیا اکھلیش یادو نے کہا کہ ہندو نے ووٹ نہیں کیا اس لئے ہار ے؟  مسلمانوں کو کیوں کہا جاتا ہے ، مسلمانوں نے ووٹ نہیں دیا ، کیا مسلمان قیدی ہیں؟ اویسی نے یہ بھی کہا کہ دو بار بی جے پی مسلمانوں کے ووٹوں سے نہیں جیتی ہے۔

      اس الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہ اویسی اتر پردیش میں مقابلہ کرکے بی جے پی کے حریفوں کے ووٹ خراب کریں گے ، حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ نے سوال کیا ، "جب آپ سب (مسلمانوں) نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں اکھلیش یادو کی پارٹی کو یہاں سے ووٹ دیا تھا۔" تو یہاں سے ایک طرح بی جے پی امیدوار کیسے جیتا؟ اسی طرح بی جے پی نے 2019 میں سلطان پور سے لوک سبھا الیکشن کیسے جیتا، جبکہ اے آئی ایم آئی ایم وہاں لڑی ہی نہیں تھی۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: