உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    نہیں ملی راحت، ابھی جیل میں ہی رہیں گے عمر خالد اورانربان

    نئی دہلی۔ غداری کیس میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی عدالتی حراست کو 14 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ غداری کیس میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی عدالتی حراست کو 14 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

    نئی دہلی۔ غداری کیس میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی عدالتی حراست کو 14 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔

    • IBN Khabar
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی۔ غداری کیس میں گرفتار عمر خالد اور انربان کی عدالتی حراست کو 14 دن کے لئے بڑھا دیا گیا ہے۔ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں آج ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے ہوئی سماعت میں دونوں کی حراست کو 14 دن کے لئے بڑھا دیا گیا۔ اس دوران خالد اور انربان کی طرف سے ضمانت کی عرضی دی گئی۔ اس عرضی میں دلیل دی گئی تھی کہ کنہیا کو پہلے ہی ضمانت مل چکی ہے اور اب تک کی تحقیقات میں کوئی ٹھوس ثبوت تفتیشی ایجنسیوں کو نہیں ملا ہے، لہذا انہیں ضمانت دی جائے ۔ کل پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں سماعت ہوگی۔

      بتا دیں کہ 12 فروری کو دہلی پولیس نے جے این یو طلبہ یونین صدر کنہیا کمار کو غداری اور مجرمانہ سازش کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا تاہم اب اسے 6 ماہ کی عبوری ضمانت پر رہا بھی کر دیا گیا ہے۔ یہ معاملہ جے این یو میں منعقد ایک پروگرام کے دوران ملک مخالف نعرے بازی کو لے کر درج کیا گیا تھا۔ بعد میں عمر اور انربان نے پولیس کے سامنے اعتراف کر لیا تھا اور عدالت نے انہیں عدالتی حراست میں بھیج دیا تھا۔

      وہیں ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ عمر اور انربان پوسٹر چھپوانے اور اسے تقسیم کرنے میں بھی شامل تھے۔ لیپ ٹاپ اس سلسلے میں ثبوت فراہم کر سکتے ہیں۔

      وہیں جے این یو کمیٹی نے کنہیا کمار سمیت پانچ طالب علموں کو جے این یو سے نکالنے کی بھی سفارش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق 5 طالب علموں میں کنہیا کے علاوہ انربان اور عمر خالد کے بھی نام ہیں۔ اس سے پہلے آج دن میں کمیٹی نے 21 طالب علموں کو وجہ بتاو نوٹس بھیجا تھا۔ انکوائری کمیٹی نے انہیں افضل گرو کی پھانسی کے خلاف احاطے میں ایک پروگرام کے سلسلے میں قوانین کی 'خلاف ورزی کا مجرم' پایا ہے۔ اس پروگرام میں مبینہ طور پر ملک مخالف نعرے لگے تھے۔

       

       
      First published: