ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

اناہزارے کا جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کیلئے 23 مارچ سے دہلی میں احتجاج کا اعلان

ہندوستان میں بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے 80 سالہ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے کہا کہ وہ جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کے لئے 23 مارچ سے قومی راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کریں گے۔

  • UNI
  • Last Updated: Mar 07, 2018 06:52 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
اناہزارے کا جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کیلئے 23 مارچ سے دہلی میں احتجاج کا اعلان
ہندوستان میں بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے 80 سالہ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے کہا کہ وہ جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کے لئے 23 مارچ سے قومی راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کریں گے۔

جموں: ہندوستان میں بدعنوانی اور ناانصافی کے خاتمے کے لئے جدوجہد کرنے والے 80 سالہ معروف سماجی کارکن انا ہزارے نے کہا کہ وہ جن لوک پال بل کے نفاذ اور زرعی اصلاحات کے لئے 23 مارچ سے قومی راجدھانی دہلی میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کریں گے۔انہوں نے اپنے حمایتیوں سے کہاکہ وہ ایجی ٹیشن کو کامیاب بنانے کے لئے تیاریاں شروع کریں۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں کسانوں کو ان کی محنت کا جائز صلہ نہیں ملتا جس کی وجہ سے گذشتہ 22 برسوں کے دوران 12 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔

انا ہزارے نے بدھ کے روز یہاں دسہرہ گراؤنڈ میں منعقدہ جن سبھا سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’ حق اطلاعات کا قانون یعنی آڑ ٹی آئی ہم نے بنایا پورے ملک کے لئے۔ کیا لوگوں کو اس کا فائدہ نہیں ملا؟ یہ پورے دیش کے لئے قانون بن گیا۔ اس کے لئے میں آٹھ مہینے تک لڑتا رہا‘۔انہوں نے جن لوک پال بل کے نفاذ کے لئے 23 مارچ سے رام لیلا میدان میں ایک بار پھر ایجی ٹیشن شروع کرنے کی بات کرتے ہوئے کہا ’لوک پال کے لئے 16 دن تک بھوک ہڑتال کی۔ اس دوران صرف پانی پر زندہ رہا۔ آخر سرکار کو قانون بنانا پڑا۔ قانون بن گیا مگر اقتدار میں آئے نئے لوگ اس پر عمل نہیں کررہے ہیں۔ اس لئے ایک بار پھر رام لیلا میدان میں احتجاج پر بیٹھنا پڑے گا‘۔

انہوں نے کہا ’میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تم زندہ ہوں، سماج اور دیش کے لئے زندہ ہوں۔ جس دن مروں گا، سماج اور دیش کی بھلائی کے لئے مروں گا۔ اس لئے 23 مارچ سے میں پھرسے احتجاج پر بیٹھ رہا ہوں۔ میرا کسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں۔ ابھی تک آٹھ قانون بن گئے ہیں۔ ان میں آر ٹی آئی اور گرام سبھا کا قانون قابل ذکر ہیں۔ ان کا فائدہ لوگوں کو مل رہا ہے‘۔انا ہزارے نے کسانوں کے حالت زار پر کہا’کسان اپنے کھیتوں میں محنت کرتے ہیں، لیکن انہیں صحیح دام نہیں ملتے ۔ 22 برسوں میں 12 لاکھ کسانوں نے خودکشی کی ہے۔ وہ اس لئے خودکشی کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی محنت کا جائزہ صلہ نہیں ملتا‘۔

First published: Mar 07, 2018 06:52 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading