உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ہریانہ میں ایک اور کشمیری طالب علم کے ساتھ مار پیٹ ، جموں و کشمیر اسمبلی میں اپوزیشن کا ہنگامہ

     ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علموں کو زدوکوب کرنے کے معاملے پر جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو اپوزیشن کے اراکین نے شدید شور شرابہ کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آوٹ کیا

    ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علموں کو زدوکوب کرنے کے معاملے پر جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو اپوزیشن کے اراکین نے شدید شور شرابہ کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آوٹ کیا

    ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علموں کو زدوکوب کرنے کے معاملے پر جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو اپوزیشن کے اراکین نے شدید شور شرابہ کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آوٹ کیا

    • UNI
    • Last Updated :
    • Share this:
      جموں: ریاست ہریانہ میں شرپسندوں کی جانب سے ایک اور کشمیری طالب علموں کو زدوکوب کرنے کے معاملے پر جموں وکشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں جمعرات کو اپوزیشن کے اراکین نے شدید شور شرابہ کے بعد احتجاج کے بطور ایوان سے واک آوٹ کیا۔ اطلاعات کے مطابق ہریانہ کے ضلع امبالا میں شمالی کشمیر کے ایپل ٹاون سوپور سے تعلق رکھنے والے ایک طالب علم کو اس کے ساتھی طالب علموں کے ایک گروپ نے زدوکوب کا نشانہ بنایا ہے۔ یہ واقعہ 7 فروری کو یونیورسٹی کیمپس کے نزدیک پیش آیا ہے۔ یونیورسٹی نے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے ایک قصوروار طالب علم کو معطل کیا ہے۔
      جمعرات کی صبح جوں ہی قانون ساز اسمبلی میں معمول کی کاروائی شروع ہوئی تو نیشنل کانفرنس رکن اسمبلی و جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے معاملے کو اٹھاتے ہوئے کہا ’ہریانہ میں بدھ کے روز کچھ شرپسندوں نے ایک اور کشمیری طالب علم کی پٹائی کی ہے‘۔ ساگر کے بعد اپوزیشن نیشنل کانفرنس، کانگریس اور سی پی آئی ایم کے بیشتر اراکین نے حکومت مخالف نعرے بازی شروع کی۔ انہوں نے واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں زیر تعلیم کشمیری طالب علموں کو مسلسل تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔
      مسٹر ساگر نے کہا ’کشمیریوں کو ریاست سے باہر نفرت کی نگاہ سے دیکھا جارہا ہے۔ حکومت ان کی سیکورٹی کو یقینی بنانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے‘۔ اس دوران پارلیمانی امور کے وزیر عبدالرحمان ویری نے حکومتی بیان دیتے ہوئے ایوان کو بتایا کہ ’ملک کے مختلف حصوں میں تعلیم اور تجارت کے سلسلے میں مقیم جموں وکشمیر کے رہائشیوں کو تحفظ فراہم کرنے کے سلسلے میں تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے‘۔
      First published: