உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    عام آدمی پارٹی کا دعویٰ: وزیر اعظم کو نہیں، ‘نریندر کمار مہاویر پرساد مودی’ کو ملی تھی ڈگری

    نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی لیاقت کے معاملہ کو لے کر عام آدمی پارٹی نے ان پر حملہ تیز کر دیا ہے۔

    نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی لیاقت کے معاملہ کو لے کر عام آدمی پارٹی نے ان پر حملہ تیز کر دیا ہے۔

    نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی لیاقت کے معاملہ کو لے کر عام آدمی پارٹی نے ان پر حملہ تیز کر دیا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی تعلیمی لیاقت کے معاملہ کو لے کر عام آدمی پارٹی نے ان پر حملہ تیز کر دیا ہے۔ پارٹی نے دعوی کیا کہ انہوں نے 1975 سے 1980 تک کے دہلی یونیورسٹی کے ریکارڈ کھنگال لئے ہیں، لیکن ایک بھی ایسا ثبوت نہیں ملا جس سے ثابت ہو سکے کہ ڈی یو نے کبھی مودی کو بی اے کی ڈگری دی تھی۔

      عام آدمی پارٹی نے کہا کہ راجستھان کے الور ضلع کے نریندر کمار مہاویر پرساد مودی کو ایک ڈگری ضرور دی گئی، لیکن نریندر دامودرداس مودی کو کوئی ڈگری نہیں دی گئی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر آشیش کھیتان نے دعویٰ کیا کہ ہم نے اپنی سطح پر 1975 سے لے کر 1980 تک کے دہلی یونیورسٹی کے ریکارڈ كھنگالے اور پتہ لگایا کہ نریندر دامودرداس مودی کے نام کا ایسا کوئی شخص نہیں تھا جسے کوئی ڈگری دی گئی ہو۔

      کھیتان نے الزام لگایا کہ ایک شخص تھا جس نے 1975 سے 1978 تک گریجویشن کیا، لیکن ان کا نام نریندر کمار مہاویر پرساد مودی تھا۔ وہ راجستھان کے الور کے رہنے والے ہیں اور ان کی تاریخ پیدائش 19 اکتوبر 1958 ہے۔ ایک اخبار میں شائع نریندر مودی کی ڈگری کی تفصیل کا حوالہ دیتے ہوئے کھیتان نے کہا کہ وہ اطلاع دہلی یونیورسٹی میں دستیاب معلومات سے میل نہیں کھاتا۔

      کھیتان نے کہا کہ ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ کسی وزیر اعظم کی تعلیمی قابلیت نگرانی کے دائرے میں آئی ہے۔ پارٹی کے ایک اور سینئر لیڈر آشوتوش نے کہا کہ ہماری چھان بین دکھاتی ہے کہ ڈگری فرضی ہے۔ یہ ایک سنگین جرم ہے اور جعلسازی کے برابر ہے۔
      First published: