உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    می ٹومہم: ایم جے اکبرکی مشکلوں میں اضافہ، ایک اورخاتون نے لگایا جنسی استحصال کا الزام

    ایم جے اکبر: فائل فوٹو

    ایم جے اکبر: فائل فوٹو

    خاتون صحافی کا الزام ہے کہ ایم جے اکبرنے انہیں ہوٹل میں بلاکرزبردستی بوسہ لینے کی کوشش کی تھی۔

    • Share this:
      می ٹومہم کے تحت جنسی استحصال کے الزامات میں گھرے مرکزی وزیر برائے خارجہ امورایم جے اکبرکی مشکلوں میں اضافہ ہورہا ہے۔ اکبرپرایک اورخاتون صحافی نے سنگین الزامات عائد کئے ہیں۔ خاتون صحافی کا الزام ہے کہ ایم جے اکبرنے انہیں ہوٹل میں بلاکرزبردستی بوسہ لینے کی کوشش کی تھی۔

      واضح رہے کہ مرکزی وزیر پراب تک کل 12 خاتون صحافی جنسی استحصال کے الزامات عائد کرچکی ہیں۔ حالانکہ اکبرنے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے اورایک خاتون پرہتک عزت کا مقدمہ بھی دائرکردیا ہے۔

      اب ایک دیگرخاتون صحافی نے انگریزی ویب سائٹ "اسکرال" پرایک تحریرکے ذریعہ اپنا تلخ تجربہ شیئرکیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ مشہورانگریزی اخبار "ڈکـن کرانیکل" میں ایم جے اکبرکے ساتھ کام بھی کرچکی ہیں۔ ایک کھلے خط میں خاتون صحافی نے تین الگ الگ واقعات کا ذکرکیا، جب اکبرنے ان کا استحصال کیا۔ خاتون صحافی نے بتایا کہ 1992 میں میں "ٹیلی گراف" میں ٹریننگ حاصل کررہی تھی۔ تب کبھی کبھی اکبرکولکاتا آتے تھے"۔

      خاتون صحافی نے آگے لکھا "اس وقت مجھ سے پوچھا گیا کہ کیا تم ایم جے اکبر سے ملنا چاہو گی۔ کون نہیں ملنا چاہے گا؟ میں تیارہوگئی۔ اپنے سینئر کے ساتھ میں بھی گئی اوروہ شام بہت اچھی تھی۔ میرے گھرکا فون نمبرایم جے اکبرکومل گیا۔ انہوں نے مجھے کام کے بہانے ہوٹل بلایا۔ کئی بارسوچنے کے بعد میں جانے کے لئے تیارہوگئی۔ میں نے گھنٹی بجائی اوردروازہ کھلا۔ سامنے انڈرویئرپہنے ایم جے اکبرکھڑے تھے۔ میں حیران دروازے پرکھڑی تھی۔ میرے سامنے ایک وی آئی پی کھڑا تھا، جو میرے خوف سے خوش تھا۔ کیا 22 سال کی کسی لڑکی کا استقبال کرنے کا یہ اخلاقی طریقہ تھا"۔

      وہ آگے لکھتی ہیں "بات یہیں ختم نہیں ہوتی۔ 1993 میں میں نے بطورسینئرسب ایڈیٹرحیدرآباد میں "ڈکن کرانیکل" جوائن کیا۔ ایم جے اکبرمیرے ایڈیٹران چیف تھے۔ اکبرکبھی کبھی وہاں آتے تھے۔ ایک بارجب وہ حیدرآباد آئے، تو مجھے پیج ڈسکشن  کے لئے ہوٹل بلایا۔ مجھے کچھ صفحہ مکمل کرنے تھے، لہٰذا ہوٹل پہنچنے میں مجھے تاخیرہوگئی"۔

      خاتون صحافی نے آگے لکھا "جب میں ہوٹل کے کمرے میں پہنچی، تو انہوں نے مجھےغلط طریقے سے چھوا اوربوسہ لینے لگے۔ ان کی چائے کی مہک اورسخت مونچھ آج بھی میری یادوں کو چبھتے ہیں۔ میں اٹھی اورتب تک دوڑتی رہی جب تک سڑک پرنہیں پہنچ گئی۔ میں نے دوڑ کرآٹورکشا لیا۔ آٹورکشا میں بیٹھنے کے بعد میں رونے لگی"۔

      انہوں نے آگے لکھا "اس کے بعد میں میں انہیں نظراندازکرنے لگی۔ اگلے دن میں دفترپہنچی۔ میں نے  نظربچاکرپیج مکمل کیا۔ اکبرکی ٹیم میں ہمیشہ اسٹاف کی کمی رہتی تھی۔ اخبارکا کام پورا کرنے کے لئے کئی بار ویک آف (ہفتہ واری چھٹی) کی قربانی بھی دینی پڑتی تھی۔ ہمارے تمام اسٹاف کے لئے یہ عام تھا، کیونکہ ہمیں اپنے کام سے پیارتھا۔ میں ایک کونے میں اپنا کام کررہی تھی۔ دوسرے دن انہوں نے اسٹاف سے کہلواکرمجھے کانفرنس روم میں بلایا اور وہاں بھی قابل اعتراض طریقے سے پیش آئے"۔

      یہ بھی پڑھیں:    اب مرکزی وزیرایم جے اکبرپرلگا جنسی استحصال کا الزام، سشما سوراج نے خاموشی اختیارکی

      یہ بھی پڑھیں:     می ٹومہم: خاتون صحافی کے خلاف عدالت پہنچے ایم جے اکبر، ہتک عزت کا مقدمہ

      یہ بھی پڑھیں:     تین طلاق بل : لوک سبھا میں بحث کے دوران ایم جے اکبر اور اسد الدین اویسی کے درمیان نوک جھونک
      First published: