ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

جامعہ ملیہ اور شاہین باغ کے احتجاج کاروں نےنصف شب قومی ترانہ گاکر نئے سال کا آغازکیا

شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ نگر واقع شاہین باغ میں پچھلےدو ہفتوں سے احتجاج جاری ہے۔ کڑاکےکی اس سردی میں بڑی تعداد میں موجود خواتین کا کہنا ہےکہ یہ احتجاج اس وقت تک جاری رہےگا، جب تک مودی حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔

  • Share this:
جامعہ ملیہ اور شاہین باغ کے احتجاج کاروں نےنصف شب قومی ترانہ گاکر نئے سال کا آغازکیا
شاہین باغ میں ایک ماہ سے زیادہ عرصہ سے لوگ احتجاج کر رہے ۔

نئی دہلی۔ شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف دہلی کے جامعہ ملیہ اسلامیہ اور جامعہ نگر واقع شاہین باغ میں پچھلےدو ہفتوں سے احتجاج جاری ہے۔ کڑاکےکی اس سردی میں شاہین باغ اوراطراف کےمختلف علاقوں کی خواتین یہاں جمع ہیں اوران کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج  اس وقت تک جاری رہےگا، جب تک کہ مرکزکی مودی حکومت شہریت ترمیمی قانون کو واپس نہیں لے لیتی۔


نئے سال کےموقع پریہاں کے نوجوانوں اورطلباء نے پارٹیوں کوخیرباد کہہ کراوربوڑھوں نےگھرپرآرام سے بیٹھ کر ٹی وی دیکھنا ترک کرکےیہاں احتجاج کےلئے جمع ہوئے۔ نیا سال 2020  کےشروع ہوتےہی قومی ترانہ گا کریہاں کے ہزاروں افراد نے شہریت ترمیمی قانون (سی اے اے) کے خلاف ایک منفرد احتجاج کیا۔


نئے سال 2020 کا آغاز ہونے پر جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طلباء اور مقامی لوگوں نے قومی گیت گا کر سی اے اے کی مخالفت کی۔


جامعہ ملیہ اسلامیہ اورشاہین باغ دونوں مقام پرہزاروں کی تعداد میں جامعہ نگرکےعوا م نے کپکتاتی سردی میں بھی حوصلہ اور جذبہ دکھاتے ہوئےاس منفرد احتجاج میں شریک  ہوکر منفرد اندازمیں سی اے اے کی مخالفت کرتے رہے۔ بہت سارے لوگ پنڈال کےارد گرد گھومتےاورموسم سرما کی سردی کو برداشت کرنےکےلئے چائےکےاسٹال پرجمع ہو کر چائے پیتے جبکہ کچھ دوسرے لوگ پنڈال کےاندرہی رہ کراسٹیج سےیکےبعد دیگرے خطاب کرنے والے مقررین کوبغورسماعت فرماتے۔ کئی لوگ قومی پرچم لہراتے پھررہے تھے جبکہ کچھ دیگرنئے قانون کے خلاف پلےکارڈ اٹھائے ہوئے تھے اور’آزادی‘ ، آزادی‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

جیسے ہی گھڑی کی سوئی 12 کے ہندسے پر پہنچی، مظاہرین خوشی سے جھوم اٹھے اور اپنے ساتھی مظاہرین کو نئے سال کی مبارکباد دینےلگےاورپھر تھوڑی دیربعد ہی ایک آواز میں قومی ترانہ گانےلگےاوراس کے بعد ’ انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے لگانےلگے۔

شاہین باغ میں نئے سال 2020 کا آغاز ہونے کے بعد سی اے اے کے خلاف احتجاج کر تی ہوئی خواتین۔


ہزاروں افراد کے درمیان نوجوان محنت کش پیشہ ور افراد کا ایک گروپ تھا جو دہلی کے مختلف حصوں سے آیا تھا جس نے 2020 کے موقع پر پارٹی دعوت ناموں کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والے ایک 30 سالہ شخص نے پی ٹی آئی کو بتایا’’ یقینا  اگر حالات معمول پر ہوتے تو میں نئے سال کے موقع پر سارا دن ہی جشن منا رہا ہوتا‘‘۔

اپنے نام کے بارے میں پوچھنے پر اس شخص نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی اور مزید کہا ’’ میں نہیں چاہتا کہ یہاں کسی مذہب کے ساتھ میری شناخت ہوجائے۔ میں یہاں ایک بڑے مقصد کے لئے آیا ہوا ہوں۔ مجھے شہریت ترمیمی قانون اور این آر سی کی مخالفت کرنی ہے‘‘۔
First published: Jan 01, 2020 05:00 PM IST