ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

متعصب ذہنیتوں کی سازش اور حالات کے تقاضوں کو سمجھیں مسلمان: اسلامک سنٹر آف انڈیا کی جانب سے عیدِ قرباں کے موقع پر اپیل

معروف عالم دین مولانا خالد رشید نے واضح طور پر کہا ہے کہ قربانی کے دوران زیادہ سے زیادہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کورونا سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔

  • Share this:
متعصب ذہنیتوں کی سازش اور حالات کے تقاضوں کو سمجھیں مسلمان: اسلامک سنٹر آف انڈیا کی جانب سے عیدِ قرباں کے موقع پر اپیل
معروف عالم دین مولانا خالد رشید

لکھنئو۔ اسلامک سینٹر آف انڈیا دار العلوم فرنگی محل نے ریاست اتر پردیش بالخصوص لکھنئو کے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ موقع کی نزاکت، حالات اور ماحول کو دیکھتے  اور سمجھتے ہوئے عید الاضحیٰ بھی عید الفطر اور رمضان کی طرح نہایت سادگی سے منائیں۔ معروف عالم دین مولانا خالد رشید نے واضح طور پر کہا ہے کہ قربانی کے دوران زیادہ سے زیادہ اس بات کا خیال رکھیں کہ کورونا سے کیسے بچا جاسکتا ہے۔ نہ ہمیں خود کورونا کی گرفت میں آنا ہے اور نہ دوسروں کے لیے خطرے کا باعث بننا ہے۔ قربانی اہم فریضہ ہے جو ادا کیا جانا چاہئے تاہم اس بات کو ملحوظ رکھنا بھی ضروری ہے کہ کسی ممنوعہ جانور کی قربانی ہر گز نہ کریں۔ ساتھ ہی ایسے مقام پر بھی قربانی نہ کریں جہاں عوامی چہل پہل زیادہ ہو۔


اسلامک سنٹر کے علاوہ دیگر کئی تنظیموں کی جانب سے بھی یہ اعلانات مسلل کئے جارہے ہیں۔ اہم تنظیموں کے لوگوں کا ماننا ہے کہ کچھ متعصب لوگ اور فرقہ پرست طاقتیں مسلسل اسلام اور مسلمانوں کو ہدف بنائے ہوئے ہیں لہٰذا ان لوگوں کی سازشوں اور منصوبوں کو ناکام کرنے کے  پیش نظر بھی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ معروف عالم دین اور دانشور  مولانا سفیان نظامی کہتے ہیں کہ فرقہ پرست لوگ جب عام دنوں میں جھگڑا کرانے کے لئے گوشت عبادت گاہوں میں ڈال دیتے ہیں تو وہ عید قرباں کے موقع پر بھی کوئی سازش کر سکتے ہیں ہمیں ایسی سازشوں سے خود کو بھی محفوظ رکھنا ہے اور اپنے معاشرے کو بھی۔ علماء کی جانب سے یہ وضاحت بھی کردی گئی ہے کہ قربانی کے فرائض کا کوئی نعم البدل نہیں لیکن نفلی قربانی کرنے والے لوگ قربانی کے پیسوں کو غریبوں کی امداد یا مدارس کے تعاون کے لئے دے سکتے ہیں۔


یہاں یہ بات بھی اہم ہے کہ شہروں اور دیہات و مضافات کے مسائل کچھ الگ ہیں اور مذہبی رسومات کی ادائیگی کے معاملے میں دیہات و مضافات کے لوگ زیادہ جذباتی ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہیں یاد رکھنا چاہئے کہ یہ وقت جذباتیت سے نہیں بلکہ ہوش سے کام لیتے ہوئے اپنے مسائل حل کرنے اور اپنے دینی تشخص کو بچانے کا ہے۔ وبا کے سبب ملک مختلف محاذوں پر بڑی پریشانیوں اور مسائل سے دوچار ہے، ایسے وقت میں ہمیں اپنے ، اپنے معاشرے اور ملک کے لئے ہر ممکن تعاون پیش کرنے کے لئے ذہنی طور پر تیار رہنے کی ضرورت ہے۔


 
Published by: Nadeem Ahmad
First published: Jul 30, 2020 04:07 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading