ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آرمڈ فورس ٹربیونل نے تین طلاق کو بتایا آئین کے خلاف ، مسلمانوں نے کی شدید مخالفت

نئی دہلی : آرمی ٹربیونل نے ایک متنازع فیصلہ دیتے ہوئے تین طلاق کو آئین کے خلاف قرار دہا ہے ۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: May 27, 2016 04:53 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آرمڈ فورس ٹربیونل نے تین طلاق کو بتایا آئین کے خلاف ، مسلمانوں نے کی شدید مخالفت
نئی دہلی : آرمی ٹربیونل نے ایک متنازع فیصلہ دیتے ہوئے تین طلاق کو آئین کے خلاف قرار دہا ہے ۔

نئی دہلی : آرمی ٹربیونل نے ایک  فیصلہ دیتے ہوئے تین طلاق کو آئین کے خلاف قرار دہا ہے ۔ ٹربیونل کے اس فیصلہ کے بعد ملک بھر میں ایک مرتبہ پھر اس معاملہ پر بحث چھڑگئی ہے ۔ مسلمانوں نے اس کی شدید مخالفت کی ہے اور اسے مسلم پرسنل میں صریح مداخلت قرار دیا ہے ۔

قابل ذکر ہے کہ آمڈ فورس ٹریبونل میں لانس نائک فاروق خاں نے عرضی داخل کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی ہے اور وہ اسے گزارا بھتہ دینے کے قابل نہیں ہے۔ اسی اس کی اس عرضی کو مسترد کرتے ہوئے ٹریبونل نے تبصرہ کیا کہ تمام قوانین آئین پر مبنی ہیں اور وہ پرسنل لاء سمیت تمام قوانین سے اوپر ہے۔

ٹربیونل کے مطابق پرسنل لاء کی آڑ میں لوگوں کو ذاتی یا اجتماعی حق، مساوات اور زندگی اور آزادی جیسے آئینی حقوق سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ نکاح دو فریقوں کی رضامندی پر مبنی معاہدہ ہے۔ اگر ایک فریق راضی نہیں ہے تو نکاح نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح دونوں فریقوں کی رضامندی کے بغیر طلاق کس طرح ہوگی۔

ٹربیونل کے اس فیصلہ کے مذہبی لیڈروں نے شدید مخالفت کی ہے ۔ مولانا خالد رشید فرنگی محلی نے کہا کہ کسی بھی عدالت کو ہمارے مذہبی قانون میں مداخلت نہیں کرنی چاہئے۔ تین طلاق ہمارے شریعت میں ہے، قرآن پاک شریف میں اس کا ذکر بھی ہے۔

ادھر سماجی کارکن ناش حسن نے کہا کہ فیصلہ کے مسلم خواتین کے حق میں آنے سے کافی خوشی ہوئی ہے۔ پہلے سے ہی کئی مسلم ممالک میں مساوات کا حق نافذ کیا جا چکا ہے۔ مراقش اور پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے۔ اپنے ملک میں اتنے عرصے بعد بھی مسلم خواتین کو برابری کا حق نہ ملنے کا سب سے بڑا ذمہ دار مسلم پرسنل لاء بورڈ ہے۔

First published: May 27, 2016 04:53 PM IST