உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    سرحد پر تعینات کی گئیں خواتین تو ساتھی جوانوں پر لگائیں گی تانک۔ جھانک کا الزام: فوجی سربراہ بپن راوت

    فوجی سربراہ بپن راوت

    فوجی سربراہ بپن راوت

    جنرل راوت نے کہا کہ ایک بار وہ جنگ کے کردار میں خواتین کو بھیجنے کی پیشکش پر تیار تھے، لیکن پھر لگا کہ زیادہ تر جوان دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور وہ خاتون افسران کے احکامات کو قبول کرنے میں جھجھک محسوس کر سکتے ہیں۔

    • Share this:
      فوجی سربراہ بپن راوت کا کہنا ہے کہ خواتین ابھی سرحد پر جنگ کے لئے بھیجے جانے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ اس کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان پر بچوں کی ذمہ داری ہوتی ہے اور وہ فرنٹ لائن میں کپڑے بدلنے میں پریشانی محسوس کریں گی۔ وہ ہمیشہ ساتھی جوانوں پر تانک۔ جھانک کا الزام لگائیں گی۔

      جنرل راوت نے نیوز 18 کے ساتھ خصوصی بات چیت میں کہا کہ ایک بار وہ جنگ کے کردار میں خواتین کو بھیجنے کی پیشکش پر تیار تھے، لیکن پھر لگا کہ زیادہ تر جوان دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور وہ خاتون افسران کے احکامات کو قبول کرنے میں جھجھک محسوس کر سکتے ہیں۔

      آرمی چیف نے زچگی چھٹی کے معاملے پر کہا کہ آرمی کمانڈنگ آفیسر کو اتنی لمبی چھٹی نہیں دے سکتی کیونکہ وہ چھ مہینے تک اپنی اکائی نہیں چھوڑ سکتی ہے۔ اس کی چھٹی پر تنازعہ کھڑا ہو سکتا ہے۔

      آرمی چیف بپن راوت کے ساتھ بات چیت کے اہم نکات

      سوال: خواتین بہت قابل جوان بنتی ہیں، لیکن فوج انہیں قبول کیوں نہیں کر رہی ہے؟

      جواب: یہ غلط ہے۔

      سوال: خواتین کی فوج کے جوانوں میں گنتی نہیں ہوتی ہے، کیا جنگ کے رول میں کوئی خاتون ہے؟

      جواب: ہمارے پاس انجنیئر کے طور پر خواتین افسران ہیں۔ وہ کان کنی اور کاغذی کارروائی کا کام کر رہی ہیں۔ وہ فضائی تحفظ میں فوج کے ہتھیار نظاموں کا انتظام کر رہی ہیں۔ ہم نے خواتین کو فرنٹ لائن میں نہیں رکھا ہے۔ کیونکہ ہم کشمیر میں پراکسی جنگ میں مصروف ہیں۔

      انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بٹالین کی افسر خاتون ہے۔ فرض کریں آپ کو ایک آپریشن کے لئے جانا ہے۔ کمپنی کمانڈر کی قیادت کرنا ہے۔ آپ کو آپریشن میں دہشت گردوں سے نمٹنا ہو گا۔ وہاں مدبھیڑ ہوگی اور اس دوران کمانڈنگ افسر مر جاتا ہے۔ خاتون آفیسر کے ساتھ بھی ایسا حادثہ ہوسکتا ہے۔ اس کی موت بھی ہو سکتی ہے۔

      سوال: ہر کوئی اس جوکھم کو سمجھتا ہے، لیکن خواتین اب خود سے بھی جانا چاہتی ہیں۔

      جواب: وہ جا رہی ہیں۔ میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں۔ ایک عورت 7-8 سال سے فوج میں نوکری کر رہی تھی۔ ایک حادثہ میں اس کی موت ہو گئی۔ اس کا 2 سال کا بچہ ہے۔ دہلی یا چندی گڑھ میں اس کے والدین بچے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔ میں آپ کو وہی بتانا چاہتا ہوں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہم اس کے لئے تیار ہیں؟

      سوال: خواتین جنگی طیارے اڑا رہی ہیں، لیکن بکتر بند ٹینک نہیں؟

      جواب: دیکھئے، میں ان خواتین کو نہیں کہہ رہا ہوں جن کے بچے مرتے نہیں ہیں۔ وہ سڑک حادثہ میں بھی مر سکتی ہے۔ لیکن جنگ سے جوانوں کی لاش جب تابوت میں واپس آتی ہے تو ہمارا ملک اسے دیکھنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

      دوسرا، تب کیا ہوگا جب جوانوں کے درمیان میں ایک عورت ہو گی۔ اسے سبھی جوانوں کے سامنے آرام اور سب کچھ کرنا ہو گا۔ اسے آپریشن کے لئے بھی جانا ہو گا۔ لیکن آج بھی ہمارے پاس اس کی منظوری نہیں ہے۔ زیادہ تر جوان دیہی علاقوں سے آتے ہیں اور انہیں یہ قبول کرنے میں کچھ وقت لگے گا۔

      سوال: کیا آپ کہہ رہے ہیں کہ فوج خواتین افسران کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہے؟

      جواب: دیکھو، میں تیار ہوں۔ ایسا نہیں ہے کہ فوج تیار نہیں ہے۔ آپ کو جو جواب ملا ہے کیا اس کے بعد بھی حکم دیں گی؟

      سوال: کیوں نہیں؟

      جواب: ٹھیک ہے، تو اب میں انہیں کمانڈنگ آفیسر بنا دیتا ہوں۔ وہ ایک بٹالین کی قیادت کریں گی۔ کیا وہ خاتون افسر 6 ماہ تک اپنے فرائض سے دور ہوسکتی ہے؟

      سوال: نہیں

      جواب: تو کیا ہوتا ہے؟ کیا میں اس پر پابندی لگانے کا حکم دوں گا کہ اسے زچگی کے دوران چھٹی نہیں دی جائے گی۔ اگر میں ایسا کہوں گا تو ہنگامہ کھڑا ہو جائے گا۔

      شریا ڈھونڈیال کے ساتھ بات چیت پر مبنی
      First published: