ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آرمی چیف دلبیر سہاگ اور وی کے سنگھ آمنے سامنے ، سہاگ نے لگایا جان بوجھ کر پروموشن روکنے کا الزام

آرمی چیف دلبیر سہاگ نے سابق آرمی چیف اور موجودہ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف زبردست حملہ بولا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف دلبیر سنگھ سہاگ نے جنرل وی کے سنگھ پر جان بوجھ کر ان کا پروموشن روکنے کا الزام لگایا ہے۔

  • Pradesh18
  • Last Updated: Aug 18, 2016 04:04 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آرمی چیف دلبیر سہاگ اور وی کے سنگھ آمنے سامنے ، سہاگ نے لگایا جان بوجھ کر پروموشن روکنے کا الزام
آرمی چیف دلبیر سہاگ نے سابق آرمی چیف اور موجودہ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف زبردست حملہ بولا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف دلبیر سنگھ سہاگ نے جنرل وی کے سنگھ پر جان بوجھ کر ان کا پروموشن روکنے کا الزام لگایا ہے۔

نئی دہلی : آرمی چیف دلبیر سہاگ نے سابق آرمی چیف اور موجودہ مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف زبردست حملہ بولا ہے۔ چیف آف آرمی اسٹاف دلبیر سنگھ سہاگ نے جنرل وی کے سنگھ پر جان بوجھ کر ان کا پروموشن روکنے کا الزام لگایا ہے۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے ، جب کسی موجودہ آرمی چیف نے مرکزی وزیر کے خلاف کھل کر حملہ بولا ہو۔

انگریزی اخبار انڈین ایکسپریس کی ایک خبر کے مطابق بدھ کو سپریم کورٹ میں سہاگ نے ایک حلف نامہ داخل کیا ہے ، جس میں یہ الزامات لگائے گئے ہیں۔ حلف نامہ میں سہاگ نے کہا ہے کہ 2012 میں ان کے چیف آف آرمی اسٹاف وی کے سنگھ نے بے وجہ پریشان کیا تھا۔ سہاگ نے کہا کہ وی کے سنگھ کا بنیادی مقصد آرمی کمانڈر کی تقرری سے روکنا تھا۔

دلبیر سنگھ سہاگ نے اپنے حلف نامہ میں کہا ہے کہ 19 مئی 2012 کو مجھ سے جاری وجہ بتاو نوٹس میں فرضی، بے بنیاد اور غیر حقیقی الزامات لگائے گئے۔ میرے اوپر نظم و ضبط اور ویجلنس پابندی لگائی گئی ، جو مکمل طور غیر قانونی تھی۔ خیال رہے کہ لیفٹیننٹ جنرل روی داستانے نے ایک عرضی دائر کر کے الزام لگایا تھا کہ دلبیر سنگھ سہاگ کو آرمی کمانڈر بنانے میں تعصب سے کام لیا گیا تھا تاکہ انہیں (اس وقت کے آرمی چیف) بکرم سنگھ کے بعد آرمی چیف بنایا جا سکے۔

قابل ذکر ہے کہ یہ معاملہ اپریل اور مئی 2012 کا ہے ، جب وی کے سنگھ نے کمانڈ اور کنٹرول میں ناکامی کے الزام میں دلبیر سنگھ سہاگ پر نظم و ضبط اور ویجلنس پابندی لگائی تھی۔ 2011 میں 20 اور 21 دسمبر کی رات دلبیر سنگھ سہاگ نے آسام کے جورہاٹ میں ایک آپریشن کیا تھا۔ اس آپریشن کو لے کر ہی دلبیر سنگھ کے خلاف کورٹ آف انكوائري کا حکم دیا گیا تھا۔ جنرل سہاگ نے اپنے حلف نامہ میں جورہاٹ آپریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس دن چھٹی پر تھے اور آپریشن سے الگ تھے۔ انہوں نے 26 دسمبر 2011 کو دوبارہ ڈیوٹی جوائن کی۔ جنرل بکرم سنگھ نے 15 جون 2012 کو ایسٹرن کمانڈ میں جی او سی ان سی کے طور پر دلبیر سنگھ کے پروموشن پر مہر لگا دی۔ اس کے بعد وی کے سنگھ کے ریٹائرمنٹ کے بعد 31 مئی 2012 کو دلبیر سنگھ سے پابندی ہٹا لی گئی ۔ اس پروموشن میں تاخیر کی وجہ سے آرمی کمانڈر کا عہدہ 15 دنوں تک خالی رہا تھا۔

First published: Aug 18, 2016 04:04 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading