ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

آسام ’ ڈی ۔ووٹر‘ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا مولانا ارشد مدنی نے کیا خیر مقدم

نئی دہلی ۔ جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آسام کے ’ ڈی ۔ووٹر‘ معاملہ میں غیرملکی شہریوں کی قانونی ڈھنگ سے شناخت کئے جانے کے لئے ہر ایک تھانہ کی سطح پرکمیٹی تشکیل دے کر اس ایشو کو حل کرنے سے متعلق گوہاٹی ہائی کورٹ کے تازہ حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔

  • UNI
  • Last Updated: Apr 28, 2016 09:11 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
آسام ’ ڈی ۔ووٹر‘ ہائی کورٹ کے فیصلہ کا مولانا ارشد مدنی نے کیا خیر مقدم
مولانا سید ارشد مدنی: فائل فوٹو

نئی دہلی ۔ جمعیتہ علماء ہند کے صدر مولانا سید ارشد مدنی نے آسام کے ’ ڈی ۔ووٹر‘ معاملہ میں غیرملکی شہریوں کی قانونی ڈھنگ سے شناخت کئے جانے کے لئے ہر ایک تھانہ کی سطح پرکمیٹی تشکیل دے کر اس ایشو کو حل کرنے سے متعلق گوہاٹی ہائی کورٹ کے تازہ حکم کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ ’ڈی ۔ووٹر‘ معاملہ کو قانونی طور سے حل کرنے اور ملک کے اصل باشندوں کو غیر ملکی قرار دے کرانہیں مبینہ طورپر پریشان کرنے کے معاملوں پر قابو پانے میں معاون ہوگا۔ واضح ہو کہ تین لاکھ افراد کو ’ ڈی ۔ووٹر‘ فہرست میں شامل کئے جانے سے تقریباً 15لاکھ بنگالیوں کی ہندستانی شہریت پر تلوار لٹک رہی ہے۔ ان میں 60فی صد غیر مسلم اور 40فی صد بنگالی مسلمان شامل ہیں ۔


مولانا سید ارشد مدنی کی ہدایت پر جمعیتہ علما ہند کی آسام یونٹ نے گوہاٹی ہائی کورٹ میں عرضی داخل کی تھی اورکہاتھاکہ ’ ڈی ۔ووٹر‘ معاملے میں اصل غیر ملکیوں کی شناخت کر کے ان کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی غرض سے ریاستی حکومت کی طرف سے 27مئی 2005کو ہر تھانہ سطح پر کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کے باوجود ان کمیٹیوں کا قیام عمل میں نہیں آیا ۔ وزیر اعلیٰ کو میمورنڈم پیش کرنے اور متعلقہ افسران سے شکایت کا کوئی اثر نہ ہونے پر جمعیتہ نے مجبور ہوکر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ ہر تھانہ کمیٹی میں ایک سرکل آفیسر ریوینیو، تھانہ انچارج، بارڈر پولس انسپکٹر یا سب انسپکٹر، ہر سیاسی فریق کا ایک نمائندہ اور ضلع پریشد کے ایک نمائندکے علاوہ چار دیگر ممبران( جن میں ایک خاتون، ایک اکثریتی فرقہ کا نمائندہ، ایک مذہبی اقلیتی نمائندہ اور ایک لسانی اقلیتی کا نمائندہ شامل ہوں گے)شامل ہوں گے۔اس کمیٹی کی ذمہ داری ہوگی کہ یہ غیر ملکی باشندوں کے بارے میں اپنا مشورہ دے، افواہوں کو پھیلنے سے روکے اور اس بات کویقینی بنائے کہ ملک کے کسی بھی اصل باشندے کو بنگلہ دیشی یا غیر ملکی ہونے کے نام پر پریشان نہ کیا جائے۔اگر کسی کوغیر ملکی باشندے کے بارے میں کوئی علم ہے تو وہ تحریری طور پر اپنی شکایت دے البتہ اسے اپنا فوٹو دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ تھانہ انچارج شکایت کی تفتیش کر کے تصدیق یا تردید کرے گا ۔ تصدیق کی صورت میں اس شکایت کو کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا۔اس کے علاوہ تھانہ انچارج کی یہ ذمہ داری ہوگی کہ وہ غیر ملکی معاملے میں ماحول خراب نہ ہونے دیں اور فساد جیسی صورتحال پیدا نہ ہو۔


مولانا سید ارشد مدنی نے کہا کہ عدالت کے اس فیصلہ سے تقریباً 15لاکھ افراد کو راحت ملے گی ۔اب ان کامعاملہ نظم کے ساتھ قانونی طریقے سے حل ہو سکے گا۔

First published: Apr 28, 2016 09:11 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading