உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چین کا دورہ مختصر کرکے وطن لوٹے جیٹلی ، سوامی کے معاملے پر مودی سے کریں گے ملاقات

    نئی دہلی ـ: وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے خود پر اور ان کی وزارت کے اعلی حکام پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے کئے گئے حملوں کے پس منظر میں اپنا چین کا دورہ ایک دن مختصر کرکے وطن لوٹ آئے ہیں

    نئی دہلی ـ: وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے خود پر اور ان کی وزارت کے اعلی حکام پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے کئے گئے حملوں کے پس منظر میں اپنا چین کا دورہ ایک دن مختصر کرکے وطن لوٹ آئے ہیں

    نئی دہلی ـ: وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے خود پر اور ان کی وزارت کے اعلی حکام پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے کئے گئے حملوں کے پس منظر میں اپنا چین کا دورہ ایک دن مختصر کرکے وطن لوٹ آئے ہیں

    • Agencies
    • Last Updated :
    • Share this:
      نئی دہلی ـ: وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے خود پر اور ان کی وزارت کے اعلی حکام پر بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر سبرامنیم سوامی کی جانب سے کئے گئے حملوں کے پس منظر میں اپنا چین کا دورہ ایک دن مختصر کرکے وطن لوٹ آئے ہیں۔ جیٹلی کا پانچ روزہ چین کا دورہ گزشتہ 24 جون کو شروع ہوا تھا اور اس دورے کا اصل مقصد ایشیائی بنیادی ڈھانچہ سرمایہ کاری بینک کی میٹنگ میں شامل ہونا تھا۔
      وزیر خزانہ جیٹلی گزشتہ رات وطن واپس آگئے۔ ان کا چین کے وزیر خزانہ لو جوئي سے پیر کو ملنے کا پروگرام تھا ، لیکن یہ ملاقات گزشتہ روز ہی ہو گئی۔
      یوں تو حکام نے جیٹلی کے دورہ چین ایک دن مختصر کئے جانے کی کوئی وجہ نہیں بتائی ہے۔تاہم جیٹلی کا دورہ ایسے وقت میں مختصر ہوا ہے جب میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ جیٹلی سوامی کے حملوں سے کافی ناخوش ہیں ، جن کے ماتحت اہم اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم اور اقتصادی معاملات کے سکریٹری ششی کانت داس بھی آتے ہیں۔ وزیر خزانہ چاہتے ہیں کہ پارٹی سوامی پر لگام کسنے کے لئے اقدامات کرے ۔
      خیال رہے کہ آر بی آئی گورنر رگھو رام راجن کے بعد سے ہی سوامی نے ارون جیٹلی پر بھی حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ اقتصادی مشیر اروند سبرامنیم ، اقتصادی امور کے سکریٹری ششی کانت داس اور جیٹلی کی طرف ہی اشارہ کرتے ہوئے سوامی نے ایک ٹویٹ میں لکھا تھا کہ ہندوستانی لیڈروں کو بیرون ممالک ہندوستانی لباس ہی پہننا چاہئے، غیر ملکی ملبوسات میں وہ ویٹر جیسے لگتے ہیں۔
      First published: