உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    بی جے پی کے ارون شوری کا سب سے بڑا حملہ، لوگوں کو پیپر نیپکن کی طرح استعمال کرتے ہیں مودی

    نئی دہلی۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہے ارون شوری نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ سادھا ہے۔

    نئی دہلی۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہے ارون شوری نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ سادھا ہے۔

    نئی دہلی۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہے ارون شوری نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ سادھا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی۔ اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہے ارون شوری نے وزیر اعظم نریندر مودی پر جم کر نشانہ سادھا ہے۔ شوری نے مودی کو ایک گھمنڈی لیڈر بتایا ہے۔ ارون شوری نے مودی پر یک شخصی صدارتی نظام حکومت حکومت چلانے کا الزام لگایا ہے۔ انہوں نے اسے ہندوستان کے لئے خطرناک بتایا۔

      مودی حکومت پر سخت حملہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر ارون شوری نے وزیر اعظم مودی پر 'گھمنڈی' ہونے اور ایک شخص کے غلبے والے 'صدارتی نظام کی حکومت' چلانے کا الزام لگایا اور کہا کہ ایسی حکومت کی سمت ہندستان کے لئے خطرناک ہے۔

      اٹل بہاری واجپئی حکومت میں کابینہ وزیر رہے شوری نے مودی حکومت کو بغیر کسی کنٹرول والے 'صدارتی نظام کی حکومت' بتایا اور کہا کہ ان کی قیادت میں اس حکومت کی سمت ہندستان کے لئے بہتر نہیں ہے ۔ انڈیا ٹوڈے ٹی وی کے 'ٹو دی پوائنٹ' پروگرام میں کرن تھاپر کے ساتھ 40 منٹ کے انٹرویو میں انہوں نے مودی حکومت کے دو سال کی مدت کا تجزیہ کیا اور خبردار کیا کہ اگلے تین سال میں انہیں 'مخالف آوازوں' کا گلا گھونٹنے کے رجحان کے علاوہ شہری آزادی پر روک لگانے کی زیادہ منظم کوشش کا خدشہ نظر آتا ہے۔

      چینل کی جانب سے جاری اعلامیہ کے مطابق مودی کا موازنہ اندرا گاندھی اور جے للیتا جیسی رہنماؤں کے ساتھ کرتے ہوئے شوری نے وزیر اعظم پر گھمنڈی ہونے کا الزام لگایا اور کہا کہ 'وہ بہت حد تک گھمنڈی ہیں اور ان میں عدم تحفظ کا احساس ہے۔
      First published: