ہوم » نیوز » شمالی ہندوستان

سسودیا سمیت حراست میں لئے گئے عام آدمی پارٹی کے 52 ممبران اسمبلی کو پولیس نے چھوڑا

وہیں خود اتوار منیش سسودیا سرینڈر کرنے کیلئے پی ایم کی رہائش گاہ جا رہے تھے ، لیکن راستے میں ہی تغلق روڈ تھانے پر انہیں حراست میں لے لیا گی

  • UNI
  • Last Updated: Jun 26, 2016 02:37 PM IST
  • Share this:
  • author image
    NEWS18-Urdu
سسودیا سمیت حراست میں لئے گئے عام آدمی پارٹی کے 52 ممبران اسمبلی کو پولیس نے چھوڑا
وہیں خود اتوار منیش سسودیا سرینڈر کرنے کیلئے پی ایم کی رہائش گاہ جا رہے تھے ، لیکن راستے میں ہی تغلق روڈ تھانے پر انہیں حراست میں لے لیا گی

نئی دہلی : عام آدمی پارٹی (آپ)کے رکن اسمبلی دنیش موہنیا کی گرفتاری کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کرنے والےدہلی کے نائب وزیراعلی منیش سسودیا سمیت پارٹی کے تمام 52 اراکین اسمبلی کو آج حراست میں لے لیا گیاتاہم کچھ دیر بعد ہی انہیں چھوڑ دیا گیا ۔ سات ریس کورس روڈ پر واقع وزیراعظم نریندرمودی کی سرکاری رہائش گاہ کی سمت جاتے ہوئے آپ کےسبھی اراکین اسمبلی کو پولس نے تغلق روڈ کے نزدیک ہی حراست میں لے لیا۔پولس حراست میں لئے گئے سبھی اراکین اسمبلی کو پارلیمنٹ اسٹریٹ تھانے لےگئی ہے۔

مسٹر سسودیا کی قیادت میں آپ کے اراکین اسمبلی کی ریلی کے پیش نظر احتیاط کے طور پر ریس کورس میٹرو اسٹیشن بند کردیا گیا اور سات ریس کورس روڈ پر کرفیو نافذ کردیا گیا۔ریلی کے سابق آپ اراکین اسمبلی نے دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی رہائش گاہ پر میٹنگ کی۔

میٹنگ کے بعد مسٹر سسودیا نے نامہ نگاروں سے کہا،’’ہم وزیراعظم کو کہنا چاہتے ہیں کہ دہلی میں کام بند نہ کریں،آپ کی دشمنی ہمارے سات ہے اس لئے ہمیں گرفتار کریں۔ہم آج خودسپردگی کرنے سات ریس کورس روٖڈ جارہے ہیں۔اس سے پہلے آج صبح مسٹر کیجریوال نے ٹویٹ کیا ،’’مسٹر سسودیا وزیراعظم کے سامنے خودسپردگی کرنے جائیں گے۔ان کے خلاف کل ہی شکایت درج کرائی گئی ہے۔وہ اسی وجہ سے وزیراعظم کے سامنے خودسپردگی کرنے جارہے ہیں۔‘‘

مسٹر سسودیانے بھی کل الزام لگایا تھا کہ سابق مشرقی دہلی کے غازی پور علاقے میں غیر قانونی دھندہ کرنے والے کچھ لوگوں کے ذریعہ ان کے خلاف شکایت درج کرائے جانے کے بعد انہیں نشانہ بنایا جائےگیا اور انیں جیل بھیجا جا سکتا ہے۔مسٹر سسودیا کے خلاف یہ معاملہ اس وقت درج کرایا گیا جب انہوں نے اس علاقے کا اچانک دورہ کیا۔

نائب وزیر اعلی نے غازی پور علاقے کے دورے کے بعد کل ٹویٹ کیا،’’غازی پور علاقے کا آج اچانک دورہ کیا ،وہاں غیر قانونی دھندہ کرنے والے لوگوں نے میرے خلاف دھمکی دینے کی شکایت درج کرائی ہے۔‘‘ انہوں نے طنز کرتے ہوئے آگے لکھا،’’مجھے پورا یقین ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی اس معاملے کو تشدد ،خواتین کو پریشان کرنےکا معالہ بنا دیں گے اور مجھے گرفتار بھی کروا دیں گے۔‘‘

دہلی پولیس نے کل ہی آپ کےاراکین اسمبلی دنیش موہنیا کو گرفتار کیا تھا۔ مسٹر موہنیا کو کل جس معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، وہ سنگم وہار کا ہے، جہاں 22 جون کو کچھ خواتین پانی کی قلت کی شکایت لے کر ان کے دفتر گئی تھیں۔ الزام ہے کہ دفتر میں آئی خواتین کو مسٹر موہنیا اور ان کارکنوں نے برا بھلا کہا، یہ بھی کہا گیا کہ ان کے حامیوں نے مبینہ طور پر خواتین کو دھکا دے کر دفتر سے باہر نکال دیا تھا۔انہی میں سے ایک عورت نے مسٹر موہنیا کے خلاف مقدمہ درج کروایا تھا۔ مسٹر موہنیا کی گرفتاری اسی معاملے میں ہوئی تھی۔
اس کے بعد مسٹر موہنیا کے خلاف کل ایک اور کیس درج ہوا، جو تغلق آباد علاقے کا ہے۔ یہ معاملہ ایک بزرگ شہری کو تھپڑ مارنے سے منسلک ہے۔پولیس کے مطابق مسٹر موہنیا جمعہ کو گووندپري میں حالات کا جائزہ لینے گئے تھے۔ اسی وقت وہاں ایک بزرگ شخص نے علاقے میں عوامی سہولیات کی خستہ حالی کی شکایت ان سے کر دی، جس پر دونوں میں کچھ کہا سنی ہوئی اور اسی دوران مسٹر موہنیا نے بزرگ کو تھپڑ مار دیا۔
مسٹر موہنیا نے اپنے خلاف لگے ان الزامات پر صفائی دینے کے لئے کل پریس کانفرنس بلائی تھی لیکن اسی درمیان پولس انہیں وہاں سے گرفتار کر کے لے گئی۔ پولیس کے اچانک پریس کانفرنس میں آنے سے وہاں افرا تفری مچ گئی۔ مسٹر موہنیا کے بہت سے حامی بعد میں تھانے پہنچ گئے اور وہاں احتجاج کیا۔
مسٹر کیجریوال نے اس واقعہ پر سخت ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نے دارالحکومت میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے۔ مسٹر کیجریوال نے مسٹر موہنیا کی گرفتاری کی خبر آتے ہی ٹوئٹر پر لکھا’’مودی جی نے دہلی میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ کی ہوئی ہے اور جن لوگوں کو دہلی کی عوام نے منتخب کیا ہے، انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے، ان کے خلاف چھاپے مارے جا رہے ہیں، ان کو دہشت زدہ کیا جا رہا اور ان سب کے خلاف جھوٹے الزام درج کئے جا رہے ہیں۔مسٹر موہنیا کو درمیان پریس کانفرنس سے گرفتار کرواکر مودی جی آخر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں۔‘‘
مسٹر سسودیا نے بھی اس مسئلے پر مسٹر کیجریوال کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ دہلی میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہے۔ انہوں نے کہا’’مودی جی آپ ہم سب کو جیل میں بھی ڈال دیں گے تو بھی ہم مڑنے والے نہیں ہیں۔‘‘
First published: Jun 26, 2016 10:54 AM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading