உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    کیجریوال حکومت بنام ایل جی: دہلی کا اصلی سربراہ کون، سپریم کورٹ کافیصلہ کل

    دہلی حکومت بنام لیفٹیننٹ فورنر کے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں 11 عرضیاں داخل ہوئی تھیں۔

    دہلی حکومت بنام لیفٹیننٹ فورنر کے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں 11 عرضیاں داخل ہوئی تھیں۔

    مرکز کے زیراقتدار دہلی حکومت میں منتخب کیجریوال حکومت یا لیفٹیننٹ گورنر میں سے کون ٹاپ پر ہوگا، سپریم کورٹ میں بدھ کو اس پر فیصلہ سنایا جانے والا ہے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: مرکز کے زیراقتدار دہلی حکومت میں منتخب کیجریوال حکومت یا لیفٹیننٹ گورنر میں سے کون ٹاپ پر ہوگا، سپریم کورٹ میں بدھ کو اس پر فیصلہ سنایا جانے والا ہے۔ کورٹ کا فیصلہ صبح 10:30 بجے آئے گا۔

      دہلی حکومت بنام لیفٹیننٹ گورنر کے اس معاملے میں سپریم کورٹ میں 11 عرضیاں داخل ہوئی تھیں۔ 6 دسمبر 2017 کو معاملے میں پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ دراصل دہلی کی کیجریوال حکومت نے ہائی کورٹ کے 4 اگست 2016 کے اس حکم کو چیلنج کیا تھا، جس میں لیفٹیننٹ گورنر کو انتظامی سربراہ بتایا گیا تھا۔

      دہلی ہائی کورٹ نے 4 اگست 2016 کو جب اپنا فیصلہ سنایا تھا تو یہ بھی کہا تھا کہ لیفٹیننٹ گورنر کابینہ کے مشورہ اور مدد کے لئے مجبور نہیں ہیں۔ عرضی میں دہلی کی منتخب حکومت اور ایل جی کے حقوق واضح کرنے کی گزارش کی گئی ہے۔

      عدالت نے سماعت میں کہا تھا کہ دہلی کی آئینی انتظام پہلی نظر میں لیفٹیننٹ گورنر کے حق میں جھکی ہوئی نظر آتی ہے۔ کورٹ نے کہا کہ دہلی کے تعلقات میں آئین کا آرٹیکل 239 اے اے کچھ الگ ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ دیگر مرکزی حکومت کے زیراقتدار ریاستوں کے الٹا یہاں لیفٹیننٹ گورنرکو زیادہ طاقت حاصل ہیں۔

       

       

      ہائی کورٹ کے فیصلے پر سماعت سپریم کوٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے کی تھی۔ اس بنچ میں چیف جسٹس دیپک مشرا، جسٹس اے کے سیکری، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وی آئی چندر چوڑ اور جسٹس اشوک بھوشن شامل ہیں۔

      دہلی حکومت کی جانب سے سینئر وکیل گوپال سبرامنیم، پی چدمبرم، راجیو دھون، اندراجے سنگھ اور شیکھر نافڑے نے بحث کی تھی، جبکہ مرکزی حکومت کا موقف ایڈیشنل سالسٹر جنرل منندر سنگھ نے رکھا تھا۔

      (ایجنسی ان پٹ کے ساتھ)
      First published: