உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    Assam: آسام میں ایک شخص نے خاتون کے قتل کا کیا اعتراف، مشتعل لوگوں نے اس شخض کو زندہ جلادیا!

    بعد میں اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔

    بعد میں اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔

    ایس ڈی پی او ایم داس نے کہا کہ ہمیں شام 6 بجے اطلاع ملی کہ عوامی سماعت میں ایک شخص کو قتل کا مجرم ثابت ہونے کے بعد زندہ جلا دیا گیا اور بعد میں اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔ لاش کو کھود کر باہر نکالا گیا ہے اور چند لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسم 90 فیصد جل چکا ہے۔

    • Share this:
      آسام کے ناگون ضلع میں ایک شخص کی 90 فیصد جلی ہوئی لاش پولیس کو دستیاب ہوئی ہے۔ جس نے مبینہ طور پر ایک نئی شادی شدہ خاتون کو آگ لگا دی تھی۔ رنجی بوردولوئی (Ranji Bordoloi) نامی شخص کو ناگون کے بور لالونگ علاقے میں عوامی سماعت کے دوران مبینہ طور پر زندہ جلا دیا گیا تھا۔

      ایس ڈی پی او ایم داس نے کہا کہ ہمیں شام 6 بجے اطلاع ملی کہ عوامی سماعت میں ایک شخص کو قتل کا مجرم ثابت ہونے کے بعد زندہ جلا دیا گیا اور بعد میں اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔ لاش کو کھود کر باہر نکالا گیا ہے اور چند لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسم 90 فیصد جل چکا ہے۔

      کربی قبیلے کے زیر اثر گاؤں کے ایک مقامی شخض کے مطابق تین روز قبل گاؤں کے تالاب سے ایک نوبیاہتا خاتون کی لاش ملی تھی۔

      یہ بھی پڑھیں: Elon Musk نے Twitter ڈیل رد کرنے کا کیا اعلان، کمپنی کرے گی مسک پر مقدمہ

      مقامی نوجوان نے بتایا کہ آج ہمارے گاؤں کی کچھ عورتوں نے ایک بزرگ خاتون کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اس نے نوبیاہتا عورت کو قتل کر دیا۔ ہفتے کے روز ایک کمیونٹی میٹنگ تھی، جہاں اسے طلب کیا گیا اور اس واقعے کے بارے میں پوچھ گچھ کی گئی۔ اس نے اعتراف کیا کہ پانچ لوگوں نے خاتون کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا اور رنجیت بوردولوئی نے اس کا گلا دبا کر قتل کیا۔

      مزید پڑھیں: Eid-ul-Adha in India: آج ملک بھرمیں نہایت عقیدت واحترام کے ساتھ منائی جارہی ہےعیدالاضحیٰ

      نوجوان نے بتایا کہ بعد ازاں بوردلوئی کو گھسیٹ کر میٹنگ میں لے جایا گیا، جہاں اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا۔ اس سے مشتعل ہو کر کچھ نے اسے مارنا شروع کر دیا اور کچھ نے اس پر مٹی کا تیل ڈال کر اسے زندہ جلا دیا۔ بعد میں اس کی لاش کو دفن کر دیا گیا۔
      Published by:Mohammad Rahman Pasha
      First published: